365 دن (حصہ اول) — Page 123
درس حدیث 123 درس حدیث نمبر 17 حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی یم نے فرمایا۔يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِيْنَ يَبْقَى ثُلُثَ اللَّيْلِ الْآخِرُ يَقُوْلُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيْب لَهُ؟ مَنْ يَسْأَلُنِى فَأَعْطِيَهُ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَاغْفِرَلَهُ؟ ( بخاری کتاب التهجد باب الدعا والصلوة من آخر الليل1145) الله سة کہ اللہ جو بہت برکت والا اور بہت بلند ہے ہر رات جب رات کا آخری تیسر ا حصہ رہ جاتا ہے نچلے آسمان پر اترتا ہے اور فرماتا ہے کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اس کو دوں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے اور میں اس کو مغفرت عطا کروں۔اس حدیث میں ہمارے نبی صلی ال کلم نے بڑے لطیف اور مؤثر رنگ میں رات کے آخری حصہ میں نفل جن کو تہجد کہتے ہیں اور دعا کی تحریک فرمائی ہے۔ہر شخص جو خدا پر ایمان رکھتا ہے، چاہتا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے اور دنیاو آخرت کی تکلیفوں سے اسے محفوظ رکھے۔بے شک انسان دن یارات کے کسی حصہ میں یہ دعائیں کر سکتا ہے اور قبول بھی ہو جاتی ہیں مگر قرآن شریف اور ہمارے نبی صلی ال یکم کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ رات کے وقت نفل خصوصاً نصف رات کے بعد جو نفل پڑھے جائیں اور جو دعا کی جائے وہ خدا کے حضور خاص مقبولیت پاتے ہیں اور وہ وقت خاص برکت کا وقت ہوتا ہے جس کو اسی طرح سمجھنا چاہیئے کہ گویا اللہ تعالیٰ نیچے اتر آتا ہے اور اپنے بندوں کے لئے جو اس سے دعا کرتے ہیں، جو اس سے مانگتے ہیں، جو اس سے بخشش طلب کرتے ہیں ایک خزانہ کا دروازہ کھول دیتا ہے اور بندہ جو اس سے چاہتا ہے اس کو دیتا ہے۔ہمارے نبی صلی علیم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللی ام رات کو 11 رکعتیں ادا فرماتے۔پہلے چار رکعت پڑھتے اور حضرت عائشہ فرماتی ہیں لَا تَسْأَلُ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَ طولمن کہ کچھ نہ پوچھو کہ وہ چار رکعتیں کتنی خوبصورت ہوتی تھیں اور کتنی لمبی ہوتی تھیں۔پھر آپ صلی الی یوم مزید چار ره مزید چار رکعتیں پڑھتے اور کچھ نہ پوچھو کہ وہ کتنی خوبصورت اور کتنی لمبی ہوتی تھیں ย اور پھر آپ تین رکعتیں ادا کرتے۔( بخاری کتاب المناقب باب كان النبى صلى العموم تنام عينه ولا ينام قلبه 3569)