365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 60 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 60

درس القرآن 60 رس القرآن نمبر 49 وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُم وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا أَتَيْنَكُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَلَوْلا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَكُنْتُمْ مِنَ الْخَسِرِينَ الله سة (البقرة:64،65) بنی اسرائیل کے اعتراض کے جواب میں اور ان کو قرآن شریف اور نبی کریم صلی الیکم پر ایمان لانے کی ترغیب دینے کے لئے یہ مضمون جاری ہے کہ بنی اسرائیل اگر قرآن شریف کے اور ہمارے نبی صلی الی یوم کے انکار پر اڑے ہوئے ہیں تو ان کی اپنی تاریخ تو یہ ہے کہ خود اس عہد کی خلاف ورزی کرتے رہے اور کرتے چلے جاتے ہیں جو ان سے ان کے نبیوں کی معرفت لیا گیا تھا اور جس عہد کا ذکر خود اس کتاب میں جس کو وہ اپنی کتاب تسلیم کرتے ہیں اب تک موجود ہے اور وہ عہد ایسے طور سے لیا گیا تھا کہ اس کو ایک پوری قوم کا بھول جانا بھی آسان نہیں کیونکہ بنی اسرائیل کو ایک پہاڑ کے دامن میں کھڑا کر کے ان سے عہد لیا گیا بلکہ اس پہاڑ میں کچھ لرزش محسوس ہوئی جیسے زلزلہ ہو اور یہ خطرہ محسوس ہوتا ہو کہ گویا وہ ان پر گرنے والا ہے اس رنگ میں پر زور طور پر عہد لئے جانے کے باوجود اگر بنی اسرائیل اس کو بھولے بیٹھے ہیں تو آنحضرت صلی علی یکم اور قرآن مجید پر ان کا ایمان نہ لانا کس طرح ان کی سچائی کا ثبوت بن سکتا ہے ؟ خصوصاً جب کہ گہری نظر سے دیکھا جائے تو بنی اسرائیل سے استثناء باب 18 آیت 18 کے مطابق ایک خاص عہد ”بنی اسرائیل کے بھائیوں میں ایک عظیم نبی“ کے ظہور کا بھی تھا مگر ان کا اپنے اس عہد کو جو خاص ان کی قوم سے لیا گیا تھا توڑ نا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا بنی اسماعیل میں نبی کے آنے کے عہد کی خلاف ورزی کا جرم کیوں بنی اسرائیل سے ممکن نہیں ؟ بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے ان آیات میں فرماتا ہے اور اس وقت کو بھی یاد کرو جب کے ہم نے تم سے پختہ عہد لیا تھا اور پہاڑ کو تمہارے اوپر بلند کیا تھا اور کہا تھا کہ جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑ لو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یادر کھوتا کہ تم بچ جاؤ پھر اس واضح ہدایت کے مل جانے کے بعد بھی تم نے پیٹھ پھیر لی اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاتے۔