365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 59 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 59

درس القرآن 59 رس القرآن نمبر 48 تا۔إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ الَّذِينَ هَادُوا وَ النَّصْرِى وَ البِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ( البقرة : 63) قرآن شریف کا ایک طریق یہ ہے کہ جب ایک مضمون میں یہ شدت ہو کہ سچائی کو نہ ماننے والے اور کفر اور نافرمانی کرنے والے خدا تعالیٰ کی گرفت میں آئیں گے تو چونکہ اس قسم کے مضمون سے یہ خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگ نا امید اور مایوس ہو کر نیکی اور صداقت سے بد دل نہ ہو جائیں تو قرآن شریف وہاں ایسا مضمون بیان فرماتا ہے جس سے مایوسی اور ناامیدی کے بجائے حوصلہ اور نیکی کی امنگ پید اہو اور اگر ایسا مضمون آئے جس میں بشاشت اور امنگ کا بیان ایسے زور سے ہو کہ یہ خطرہ ہو کہ لوگ اس کی وجہ سے نیکی اور جد وجہد اور محنت سے غافل اور لا پر واہ ہو جائیں گے تو انذار اور جدوجہد اور محنت کرنے کی تلقین کا مضمون بیان کرتا ہے۔آج کی آیت سے پہلے بنی اسرائیل کی نافرمانی اور سرکشی کا مضمون اس غرض سے چل رہا تھا کہ ان کے اس اعتراض کا جواب دیا جائے کہ روحانی نظام جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان میں قائم کیا گیا تھا وہ اب ان سے چھین کر ان کے بھائیوں بنی اسماعیل میں کیوں منتقل کیا گیا ہے تو اس مضمون میں بار بار بنی اسرائیل کی سرکشیوں اور نافرمانیوں کا ذکر تھا۔جس سے یہودیوں میں عیسائیوں میں اور بنی اسرائیل کے دوسرے چھوٹے فرقوں میں جو ان دو بڑے فرقوں کے علاوہ تھے جن کا صابی کے نام سے ذکر ہے ان میں مایوسی اور نا امیدی کا پہلو پیدا ہو سکتا تھا اس سے اس آیت میں یہ فرمایا کہ ڈرنے اور غم کرنے کی ضرورت نہیں اگر اللہ اور رسول پر نام کا مومن کہلانے والا حقیقتاً سچا ایمان لائے یا یہودی کہلانے والا یا عیسائی کہلانے والا یا صابی کہلانے والا اللہ اور آخرت کے دن پر سچا ایمان لائے اور یہ یادر ہے کہ ایمان کی پہلی کڑی اللہ پر ایمان اور ایمان کی آخری کڑی آخری دن پر ایمان ہے جن کے درمیان قرآن شریف نے بار بار رسولوں پر ایمان، کتابوں پر ایمان، فرشتوں پر ایمان کا ذکر فرمایا۔تو جو شخص ایسا ایمان لاتا ہے اس کے لئے مایوسی اور نا امیدی کا کوئی ڈر نہیں، نہ ہی غلط امید کی وجہ سے وہ لا پر واہ اور غافل ہو کر آئندہ زمانہ سزا جزا میں غم کا شکار نہ ہو گا۔