365 دن (حصہ اول) — Page 50
درس القرآن 50 رس القرآن نمبر 41 وَإِذْ نَجَيْنَكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ وَ فِي ذلِكُمْ بَلاءُ مِنْ رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَانْجَيْنَكُمْ وَأَغْرَقْنَا الَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُونَ وَ إِذْ وَعَدْنَا مُوسَى اَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَ اَنْتُم ظُلِمُونَ ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ وَ إِذْ أَتَيْنَا مُوسَى الْكِتَبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ آپ (البقرة:50 تا54) اس بات کے بیان کرنے کے بعد کہ آنحضرت صلی یم کی بعثت اور قرآن کریم کا نزول کوئی ایسی بات نہیں کہ جس کو بنی اسرائیل اپنے دین اور اپنی کتاب کے خلاف سمجھیں بلکہ یہ بنی اسرائیل کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی کے عین مطابق ہے۔اس لئے بنی اسرائیل کو آپ صلی یکم اور قرآن مجید پر ایمان لا کر اس عہد کو پورا کرنا چاہیے جو ان سے لیا گیا تھا اور ان نعمتوں کو یاد کرنا چاہئے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر کیں تاکہ وہ اس سب سے بڑی نعمت پر ایمان لائیں جو آپ جو سب سے بڑے نبی ہیں اور قرآن کریم جو سب سے بڑی اور آخری شریعت ہے، کی شکل میں ان کو دی گئی ہے۔اب ان آیات میں ان نعمتوں کا ذکر شروع ہوتا ہے جو بنی اسرائیل پر اتاری گئیں مگر انہوں نے اس کی ناقدری کی۔پہلی نعمت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ بنی اسرائیل کو ایک بہت بڑے امتحان سے چھڑایا۔فرماتا ہے وَإِذْ نَجَيْنَكُم مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ اور یاد کرو جب ہم نے تم کو فرعون کی قوم سے نجات دی يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وہ سخت عذاب دیتے تھے يُذَبِّحُونَ ابْنَاءَكُم وہ بیٹوں کو ہلاک کرتے تھے وَ يَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُم اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے وَفِي ذَلِكُمْ بَلاءُ مِّن رَّبِّكُم عظیم اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بڑا امتحان تھا۔پھر دوسری نصیحت یہ کہ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ جب ہم نے تمہارے لئے سمندر کو پھاڑ دیا فانجینم پس ہم نے تم کو نجات دی وَ اغْرَقُنَا الَ فِرْعَوْنَ اور فرعون کی قوم کو غرق کر دیا