365 دن (حصہ اول) — Page 49
درس القرآن 49 رس القرآن نمبر 40 يبَنِي إِسْرَاءِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِي الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَإِنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَلَمِينَ وَاتَّقُوا يَوْمًا لَا تَجْزِى نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةً وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدُكَ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ (البقرة: 48،49) اس سوال کا اصولی جواب دینے کے بعد کہ بنی اسرائیل کی مذہبی تعلیم اور ان کی الہامی کتاب کی موجودگی میں نئی کتاب اور نئے رسول صلی یی کم کی کیا ضرورت ہے یہ مضمون تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل اس نعمت کو بھول گئے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان پر کی تھی اور اس فضیلت کو بھول گئے ہیں جو تمام دنیا میں نمایاں طور پر ان کو دی گئی تھی اور پوری تفصیل کے ساتھ قرآن مجید کی تعلیم کی برتری اور موجودہ اہل کتاب کا بگاڑ کو دوسرے پارہ کے ربع تک بیان کیا گیا ہے فرماتا ہے اے بنی اسرائیل میری اس نعمت کو یاد کرو جو نعمت میں نے تمہارے اوپر کی اور تمام جہان میں ایک فضیلت اور نمایاں مقام تمہیں عطا کیا۔اس کے بعد ان وجوہات کا ذکر کیا ہے کہ جن کی وجہ سے بنی اسرائیل سمجھتے تھے کہ وہ ان شرارتوں کے باوجود محفوظ ہیں اور فرماتا ہے وَاتَّقُوا يَوْمًا لَا تَجْزِى نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَيْئًا جس دن کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے کام نہ آئے گا۔تمہیں خیال ہے کہ تم ابراہیم کی اولاد ہو ، تم میں سے ایک گروہ یہ سمجھتا ہے کہ یسوع تمہارے گناہوں کا کفارہ ہے مگر یاد رکھو کہ ایک ایسا دن آنے والا ہے جب کوئی شخص کسی دوسرے کے کام نہ آئے گا۔وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةً نہ موسیٰ کی یا کسی اور کی شفاعت تمہاری طرف سے قبول کی جائے گی وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عدك نہ کوئی مال و دولت پیش کر کے تم بچ سکو گے۔وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلُ نہ کسی شخص سے کوئی بدلہ لیا جائے گا۔وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ اور نہ وہ کسی قسم کی مدد دیئے جائیں گے۔