365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 39 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 39

درس القرآن 39 رس القرآن نمبر 33 وَاذْ قُلْنَا لِلْمَلَكَةِ اسْجُدُ وَالأَدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَفِرِينَ (البقرة:35) حضرت آدم کے ذریعہ روحانی دنیا میں یہ دور جو ہمارا دور ہے ، شروع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی ان صفات کا علم دیا جو فرشتوں کو بھی معلوم نہ تھیں اور فرشتوں کو حکم ہوا کہ اللہ کے اس عظیم الشان کام پر اللہ کے حضور سجدہ کریں اور آدم کی پوری طرح اطاعت کریں اور اس کے کاموں میں اس کے مددگار ہوں وَ إِذْ قُلْنَا لِلْمَلَكَةِ اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا اسجدوا لادم کہ آدم کی خاطر اللہ کو سجدہ کرو اور آدم کی پوری اطاعت کرو ( یہ دونوں معنے اس فقرہ سے نکلتے ہیں) فَسَجَدُوا تو انہوں نے اللہ کو سجدہ کیا اور آدم کی اطاعت کی اور اس کے کاموں میں اس کی مدد کرنے لگے الا ابليس مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا ابی وَاسْتَكْبَرَ اس نے انکار بھی کیا اور اپنے آپ کو بڑا سمجھا وَ كَانَ مِنَ الكَفِرِینَ اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ کافروں میں سے ہو گیا۔ہمارے نبی صلی علی کم پر جو کتاب قرآن نازل ہوئی اس کے شروع میں یہ مضمون ہے کہ اس کتاب کو ماننے والے مومن اور نہ ماننے والے کافر اور منافق بن جاتے ہیں تو اس آیت میں اس کی وجہ بھی بتادی کہ وہ کافر کیوں بنتے ہیں؟ وجہ یہ ہے کہ نمبر ایک وہ اس کی جو خدا کی طرف سے آتا ہے اس کا انکار کرتے ہیں، اس کی اطاعت نہیں کرتے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑا بناتے اور بڑا سمجھتے ہیں، کوئی اپنے آپ کو ماننے والوں سے زیادہ مال دار دیکھتا ہے، کوئی زیادہ رسوخ، عہدہ اور طاقت رکھنے والا خیال کرتا ہے، کوئی اپنے آپ کو زیادہ علم والا سمجھتا ہے اور اس وجہ سے اس میں تکبر پیدا ہو جاتا ہے اور وہ خدا والوں کا انکار کر دیتا ہے اور خدا کے مامور کو ماننے والے مومنوں کے مقابل میں کافروں کی جماعت میں شامل ہو جاتا ہے۔