365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 38 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 38

درس القرآن 38 رس القرآن نمبر 32 وَ عَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَكَةِ فَقَالَ انْتُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنتُم صُدِقِينَ قَالُوا سُبُحْنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَيْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ قَالَ يَادَمُ انْبِتُهُم بِأَسْمَابِهِم فَلَمَّا انْبَاهُمْ بِإِسْمَابِهِمْ قَالَ اَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَوتِ وَ الْأَرْضِ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ (البقرة:32تا 34) اللہ تعالیٰ نے جب فرشتوں کو یہ فرمایا کہ زمین میں ایک سلسلہ خلافت شروع ہو رہا ہے تو انہوں نے عرض کیا کہ اس سلسلہ کے باعث زمین میں فساد اور خون بہنا تو نہیں شروع ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ نے جو جواب دیا اس کی تشریح یہ ہے کہ تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کی تجلی ہے اور فرشتوں کے ذریعہ بہت سی صفات کی تجلی نہیں ہوتی، فرماتا ہے کہ اللہ نے آدم کو جو اس سلسلہ خلافت کا نقطہ آغاز تھا اپنی جملہ صفات کا علم دیا، فرماتا ہے وَ عَلَمَ آدَمَ الْأَسْمَاء كُلها کہ آدم کو تمام صفات الہیہ کا علم دیا گیا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَكَةِ پھر ان صفات سے متصف ہونے والے وجود ملائکہ کو دکھا کر ان کو کہا انتوني بِأَسْمَاء هَؤُلاء إِن كُنتُم صدِقِينَ اگر تمہارا خیال درست ہے تو تم مجھے ان کے نام بتاؤ یعنی ان صفات کا ذکر کرو جو ان وجو دوں میں پائی جاتی ہیں۔قَالُوا سُبُحْنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا ما علمتنا انہوں نے کہا تو پاک ہے ہمیں کوئی علم نہیں مگر جو تو ہمیں سکھائے۔اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ کیونکہ تو خوب جاننے والا اور حکمت والا ہے۔گویا فرشتوں نے ان صفات کے علم سے ناواقفیت کا اقرار کیا جو اس سلسلہ خلافت کے ذریعہ ظاہر ہونے والی تھیں خدا تعالیٰ نے فرمایا اکھ اقل لكُم کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا اِنّى اَعْلَمُ غَيْبَ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ کہ میں آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہوں۔وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ اور میں وہ بھی جانتا ہوں جو (صفات) تم ظاہر کر سکتے ہو وَمَا كُنتُم تَكْتُمُونَن اور وہ بھی جانتا ہوں جو تم ظاہر نہیں کر سکتے۔ان آیات میں ہمارے اس روحانی دور ، جس کی ابتداء آدم سے ہوئی اور جو ہمارے نبی صلی الی یکم کے ذریعہ اپنے جو بن پر پہنچا، کی ابتداء کا ذکر ہے۔