365 دن (حصہ اول) — Page 40
درس القرآن 40 رس القرآن نمبر 34 وَقُلْنَا يَادَمُ اسْكُنُ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هُذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّلِمِينَ فَازَلَهُمَا الشَّيْطَنُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيْهِ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُةٌ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلى حِينِ فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَّبِّهِ كَلِمَةٍ فَتَابَ عَلَيْهِ انه هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (البقرة : 36 تا 38) آنحضور صلی ال نیلم کے دعوی ماموریت کے بعد یہ سوال لازمی تھا کہ کیا یہ کوئی نیامد ہب ہے یا کسی پرانے مذہب کا جاری سلسلہ ہے اس سوال کا جواب دینے کے لئے فرمایا کہ رسول اللہ صلی علیکم کا پیغام تمام انسانیت کو خدا کی عبادت کے لئے بلانا ہے جیسا کہ فرمایا یايُّهَا النَّاسُ اعبدوا ربكم کہ اے دنیا بھر کے انسانو! اپنے رب کی عبادت کرو اور یہ پیغام نیا نہیں اس دور کی ابتداء آدم سے ہوئی تھی اور اس سلسلہ میں جو اعتراض خون بہانے اور فساد کرنے کا ہو سکتا تھا اس کا جو اب بیان فرمایا کہ آدم کا سلسلہ اللہ کی صفات کی تجلی کے لئے ہے۔اب ان آیات میں فرمایا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان غلطی نہیں کر سکتا۔شیطان اس کو دھوکا دے سکتا ہے مگر ساتھ ہی یہ مضمون بھی بیان کر دیا کہ اگر آدم یا اس کے دور کے انسانوں سے غلطی ہو جائے تو اس کا علاج بھی موجود ہے ، فرماتا ہے:۔وَقُلْنَا يَادَم ہم نے کہا اے آدم اسکن اَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ کہ تم اور تمہاری بیوی اس باغ میں رہو وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شبا اور دونوں جہاں سے چاہو با فراغت کھاؤ وَلَا تَقْرَبَا هذِهِ الشَّجَرَة مگر اس درخت کے قریب نہ جاؤ فَتَكُونَا مِنَ الظَّلِمِينَ ورنہ تم دونوں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔اس آیت میں سمجھایا گیا ہے کہ دنیا کی انسان کی زندگی اسی طرح ہے جس طرح وہ ایک باغ میں زندگی گزار رہا ہو جہاں طرح طرح کی نعمتوں کے درخت انسان کے لئے مہیا کئے گئے ہیں۔مگر ایک درخت خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کا بھی ہے۔انسان کو چاہیے کہ اس کے قریب بھی نہ جائے ورنہ وہ ظالموں میں سے ہو جائے گا۔جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں انسان کو آزادی دی گئی ہے وہ غلطی بھی کر سکتا ہے ، گناہ بھی کر سکتا ہے ، آدم اور اس کے ساتھی کو بھی