دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال

by Other Authors

Page 51 of 101

دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 51

51 تمام عرصے میں اور ان تمام ملکوں میں، اور اس تمام مسافت میں کہیں بھی ختم نبوت کو اتنا خطرہ پیش نہیں آیا جتنا دیو بندیوں کے دیس میں اچانک پیش آ گیا۔چنانچہ جتنی انجمن تحفظ ختم نبوت جتنی کا نفر نسر تحفظ ختم نبوت جتنی تحاریک تحفظ ختم نبوت دیوبندیوں نے بر صغیر میں اٹھا ئیں اور وہ بھی 1905 یعنی حسام الحرمین کی اشاعت کے بعد نہ تو وہ بانی دیو بند کے زمانہ میں اٹھیں اور نہ ہی 15 سو سالہ پوری دنیا میں۔حتی کہ آج کے سعودی عرب میں بھی یہ نادر الوقوع کارنامہ سرانجام نہیں پایا۔واقف کاران حال میں سے کوئی اسے مولوی احمد رضا خان کے طعنوں کی خفت مٹانے کا حربہ کہتا ہے تو کوئی دھن دولت سمیٹنے اور سستی شہرت حاصل کرنے کا ہتھیار۔کوئی اسے تحریک پاکستان اور تحریک آزادی میں کانگریس اور ہندوؤں کی گود میں بیٹھنے کے شرمناک فعل کو چھپانے اور کوئی اسے سانحہ مسجد شہید گنج میں شرمناک کردار ادا کرنے کو بھلوانے کا ہتھکنڈہ قرار دیتا ہے۔جو بھی ہو سب کچھ ہے مگر محبت رسول اما الام بالکل نہیں ہے۔آئیے دیکھتے ہیں اہل حدیث علماء اس دوغلی کہانی کو کس نام سے سرفراز کرتے ہیں دیوبندى مجلس تحفظ ختم نبوت کیوں بنا کر بیٹھے ہیں؟؟؟ مولانا ڈیروی معروف غیر مقلد اہل حدیث مولوی عطاء اللہ ڈیروی صاحب اپنی کتاب و تبلیغی جماعت عقائد وافکار نظریات اور مقاصد کے آئینہ میں تحذیر الناس اور اس میں درج مندرجات پر تفصیلی تبصرہ کرنے کے بعد ان الفاظ میں بحث کو سمیٹتے ہیں قابل غور مقام ہے کہ بانی مدرسہ دیوبند مولانا قاسم صاحب نانوتوی کے بیان کے مطابق اگر آپ کے بعد بھی نبی آجائے تب بھی آپ خاتم الانبیاء ہوں گے۔تو ایسی صورت میں مرزا غلام احمد قادیانی و دیگر جھوٹے نبیوں کے دعوائے نبوت کے خلاف سمجھنے میں آخر کیا جواز رہ جاتا ہے اور جماعت دیوبند یہ جب آپ صلی یا یتیم کے بعد ہر قسم کے نبی کے آنے کو ختم نبوت کے خلاف نہیں بجھتی تو وہ مجلس تحفظ ختم نبوت کیوں بنا کر بیٹھی ہے۔۔۔اور کسی مدعی نبوت کیخلاف شور کس لئے مچاتی ہے؟ ( تبلیغی جماعت عقائد وافکار نظریات اور مقاصد کے آئینہ میں ص 115 افکار مولوی عطاء اللہ ڈیروی صاحب از قلم ابو الوفا محمد طارق خان