دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 49
49 ان میں سے دسواں شخص آخری شخص کہلائے گا اور اب اس قطار میں اگر گیارھواں شخص کھڑا ہو گیا تو اب دسواں شخص آخری کہلانے کا حقدار نہیں ہوگا بلکہ گیارھویں شخص کو آخری کہا جائے گا اور یہی بات علمائے دیو بند کے حلق سے نیچے نہیں اترتی۔ریاضی کا یہ قاعدہ دنیا کے کسی کونے میں صحیح ہو تو ہو لیکن علمائے دیو بند کے نزدیک شائد یہ قاعدہ غلط ہے اسی لئے وہ حضور صلی یا پیام کے بعد کسی نبی کے پیدا ہو جانے پر حضور صلی یا ایلم کو ہی آخری نبی کہنے پر مصر ہیں۔( مناظرہ روداد کشیهار مرتبه شکیل احمد سبحانی ص 15 ناشر رضا اکیڈمی ممبئی 3) ایک گائے کے دوچور“ بریلویوں کے ساتھ ساتھ اہل حدیث یعنی غیر مقلدین بھی میدان میں آگئے اور انہوں نے بھی اعلان کرنا شروع کر دیا کہ جماعت احمدیہ اور بانی دیو بند ختم نبوت کی تفسیر و تشریح میں ہم مسلک و ہم مشرب ہیں۔اہلحدیث غیر مقلد حضرات کے مزعومہ شیخ العرب والعجم مولوی سید بدیع الدین شاہ راشدی تحذیر الناس ص ۱۲ کی تشریح درج کر کے لکھتے ہیں " نبوت کی جگہ کو تم نے خود تو ڑا ہے اس میں تم نے خود رخنہ اندازی کی ہے۔مرزائی بھی تو ایک امتی ہی کو آگے کرتے ہیں آپ نے بھی امتی کو آگے کیا ہے۔نبی کے پیچھے نہ آپ ہیں نہ وہ ہیں۔بات ایک ہی ہے تم ایک ہی گائے کے دو چور ہو“ براۃ اہل حدیث ص ۵۱٬۵۰ مطبوعہ الدار الراشد یه نزد جامع مسجد اہل حدیث را شدی گلی نمبر ا موسیٰ لین کراچی بحوالہ اہل سنت کی حقانیت کا ثبوت غیر مقلدین کے قلم سے مولفہ میثم عباس قادری رضوی ص۸) غيرمقلد مولوی ڈاکٹر طالب الرحمن صاحب كا فتوى ڈاکٹر صاحب اپنی مشہور کتاب دیو بندیت تاریخ وعقائد میں تحذیر الناس پر تفصیلی بحث کے بعد آخری لائن کے طور پر خلاصہ لکھتے ہیں کہ