دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 48
48 کے مطابق یکم رجب بروز جمعرات 1344ھ کو ختم ہوئی جو 1916 بنتا ہے۔آگے ص 28 پر زیر عنوان اصحاب مکاشفہ میں فرماتے ہیں ” مرازا قادیانی نے اپنا ذاتی تجربہ لکھ کر اپنے آپ کو اہل کشف ثابت کیا تو دوسری طرف مولوی اشرف علی تھانوی نے مرزا کو اصحاب مکاشفہ“ میں شامل کر کے ان تمام دعووں کے سچ ہونے کا اعلان کر دیا۔دیوبندیوں کے۔۔۔نا مناسب الفاظ۔مولوی قاسم نانوتوی نے ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے تحذیر الناس لکھ ماری جس کا فائدہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اٹھایا تو مربی دیو بند مولوی رشید گنگوہی نے مرزا غلام احمد کو مرد صالح ہونے کا فتویٰ دیا۔اور لدھیانہ کے بازاروں میں اس کا اعلان مولوی شاہ دین اور مولوی عبد القادر نے روبرو مریدان منشی احمد جان و متبعان قادیانی کے کیا۔تو دوسری طرف (۔۔۔نا مناسب الفاظ۔۔) اشرف علی تھانوی نے مرزا غلام احمد قادیانی کو اصحاب مکاشفہ میں شمار کر کے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ان ہی القابات کی بناء پر دیوبندی مکتبہ فکر ختم نبوت کے سلسلہ میں مشکوک تھا اور یہ راز داریاں اس کی بین ثبوت ہیں ( یہ مضمون مشہور ویب سائٹ scribd) پر بھی موجود ہے جاہلوں کی نشانی ہندوستان ملک پور ہاٹ متصل ولکولہ بلرام پور کٹیہار بہار میں دیوبندیوں اور بریلوی حضرات کے درمیان ایک مشہور مناظرہ ہوا جس میں دیوبندیوں کی طرف سے مولوی طاہر گیاوی اور بریلویوں کی طرف سے مفتی محمد مطیع الرحمن رضوی پیش ہوئے۔بریلوی مولوی صاحب نے مولا نا قاسم نانوتوی کے عقیدہ ختم نبوت پر اعتراض کرتے ہوئے یہ بیان دیا ختم نبوت سے متعلق قرآن وحدیث میں واضح اعلان کے بعد بھی نبی کی آمد کو فرض کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ مزید برآں یہ کہ خاتمیت محمدی صلی ہی تم میں کچھ فرق نہ آئے گا“ یہی تو جاہلوں کی نشانی ہے دنیا کا قاعدہ ہے کہ اگر ایک قطار میں دس افراد کھڑے ہوں تو