دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 92
92 دوبارہ نکاح کر ورنہ (۔۔۔۔آگے گندے الفاظ ہیں۔۔۔) اور زبان کی بے اختیاری کا بہانہ جھوٹا ہے۔دن بھر جاگتے میں ہوش کے ساتھ مجھے نبی کہتا رہا اور پھر کہتا ہے کہ میری زبان میرے اختیار میں نہیں تھی۔۔۔۔مگر آپ کے پیر نے یہ کچھ نہیں کہا بلکہ اُسے تسلی دی کہ اس طرح پیر کے متبع سنت ہونے کی تسلی ہوتی ہے اور پھر اُسے اس رسالہ میں چھاپا گیا جس کا مقصود امت محمدیہ کے عقائد اخلاق و معاشرت کی اصلاح بتایا گیا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تھانوی صاحب ہرگز دعویٰ نبوت کو کفر نہیں جانتے ہیں بلکہ چھاپ کر شائع کرنے سے تو اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ مریدوں کو دعوت دی گئی ہے کہ پیر کے متبع سنت ہونے کی تسلی اس طرح ہوتی ہے کہ اُسے نبی اور رسول کہا جائے۔ہمارے مرزا صاحب خود فرمایا کرتے تھے کہ مجھے حضور سالی یا اسلام کی سنت کی اتباع کرنے کے صدقے میں نبوت عطا فرمائی گئی بلکہ کامل اتباع سنت تو یہی ہے کہ جس طرح حضور سی ای ایام نے نبی رسول ہو کر اُمت کو ہدائیت فرمائی اسی طرح حضور صلی شما یہ تم کا غلام بھی حضور کے طفیل سے نبوت پاکر مخلوق کو ہدائیت کرے۔تو تھانوی صاحب نے جو اپنے آپ کو متبع سنت کہا اس کا مطلب یہی ہوا کہ مجھ کو حضور کی غلامی اور حضور کی سنت کے کامل اتباع کے صدقہ نبوت ملی ہے۔اگر مرزا صاحب اس وجہ سے کافر ہیں تو آپ کے پیر تھانوی صاحب بھی اس وجہ سے کافر ہو گئے۔اگر ان کو آپ مسلمان مانتے ہیں تو انہیں بھی مسلمان ماننا پڑے گا۔دیو بندی : جناب میں کس قدر تھوڑا بولتا ہوں اور آپ فضول باتوں میں وقت