دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال

by Other Authors

Page 75 of 101

دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 75

75 ترجمہ یکساں نہیں ہے بلکہ وہ پوری صدی کے بریلوی مولویوں کو نقل کر کے کہتے ہیں کہ تمہارے اکابرین کا موقف کون سا جدا ہے ان کا بھی تو یہی موقف ہے اور اگر ہمارے اکابرین احمدیت کے مؤید ہیں تو پھر تمہاری اکابرین بھی مؤید ہیں اور یوں وہ 1974ء کو قومی اسمبلی کے فیصلے کے پس منظر کے برعکس نہ صرف خودا پنی منافقت سے پردہ اُٹھاتے بلکہ بریلوی حضرات کی منافقت کو بھی طشت از بام کر دیتے ہیں ہوتے ہیں بلکہ بریلویوں کو بھی۔۔۔کر دیتے ہیں۔اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس روشن کڑی دو پہر میں دونوں ایک دوسرے کو۔۔۔۔بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو مشورہ بھی دے رہے ہیں کہ آہستہ بولو۔آہستہ بولو کہیں احمدی سن نہ لیں۔تحذيرالناس سےحسام الحرمین تک اورفیضان ختم نبوت پر جماعت احمدیه کی عارفانه تفسیر تحذیر الناس حضرت مولانا قاسم نانوتوی صاحب کی تحریر ہے جو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی مہدویت و مسیحیت سے قبل تحریر فرمائی۔( مولانا نانوتوی 1822 تا1880 )اس میں کیا لکھا ہے اور کیوں لکھا ہے وہ اسی دیو بندی مولوی صاحب کی زبانی سنتے ہیں۔تحذيرالناس کاتعارف مولوی الیاس گھمن صاحب فرماتے ہیں کہ ”ہوا یہ کہ ہندوستان میں بعض حضرات کی طرف سے حدیث ابن عباس کی تردید اور انکار ہونے لگا اور وہ حدیث واثر یہ ہے کہ زمینیں سات ہیں اور ہر زمین میں تمہارے نبی کی طرح نبی تمہارے آدم کی طرح آدم اور تمہارے نوح کی طرح نوح اور ابراہیم تمہارے ابراہیم کی طرح۔اور عیسی تمہارے عیسی کی طرح موجود ہیں۔اس اثر و حدیث کو چونکہ علماء امت نے صحیح قرار دیا ہے اس لئے حضرت حجتہ الاسلام نے لوگوں کو اس حدیث کے انکار سے بچانے کے لئے ایک کتاب لکھی جس کا نام ” تحذیر الناس من انکار اثر ابن عباس“ رکھا۔“ ( حسام الحرمین کا تحقیقی جائزہ ، صفحہ 114-115)