دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال

by Other Authors

Page 74 of 101

دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 74

74 یوں تو جماعت احمدیہ کی دشمنی میں یہ دونوں گروپ یک زبان ہیں 1953ء کے فسادات ہوں یا 1974 ء کی قتل و غارت۔سوشل بائیکاٹ کا ظالمانہ طریق ہو یا اسمبلی کی طاقت کے زور پر احمدیوں کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے کا فیصلہ یہ دونوں گروپ شانہ بشانہ جماعت احمدیہ کے خلاف زہر اگلتے نظر آتے ہیں بلکہ ایک دوسری کی ماتحتی میں کام کرتے نظر آتے ہیں۔یعنی مذہبی دنیا کا یہ عجیب حیرت انگیز واقعہ ہے کہ حسام الحرمین لکھتے ہیں اور دیو بندیوں کو منکر ختم نبوت سمجھتے ہیں 1953ء کی تحفظ ختم نبوت تحریک میں دیوبندیوں کی نیابت میں بریلوی مولوی تحریک چلاتے ہیں اور ملکر ملک میں احمدیت کے خلاف طوفان اٹھا دیتے ہیں اور ہر قصبہ ہر گاؤں میں احمدیوں کو منکر ختم نبوت قرار دیتے ہوئے عظیم فسادات کروا کر ملک کو پہلے مارشل لاء میں جھونک دیتے ہیں ان فسادات کے دوران نعرہ لگاتے ہیں کہ ملک میں صرف ایک ہی منکرین ختم نبوت ہیں اور وہ ہیں احمدی جب وہ فسادات گزر جاتے ہیں تو پھر چیخنے چلانے لگتے ہیں کہ اگر قادیانی جماعت کو منکر ختم نبوت کہنا امر واقعہ ہے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس انکار کی بنیاد پر دیوبندی جماعت کو بھی منکر ختم نبوت نہ قرار دیا جائے۔“ ”اسلامی دنیا کا جو الزام قادیانی جماعت پر ہے وہی الزام دیو بندی جماعت پر بھی عائد کیا جائے۔“ ( زبروز بر ، مولانا ارشد القادری صفحه 126) اخفائے حق کی جوابی نادر الوقوع جسارت بریلوی حضرات کے بعد جب دیو بندیوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو وہ بھی ایسی ہی نادر الوقوع حرکات میں مصروف نظر آتے ہیں چنانچہ مندرجہ بالا کتاب حسام الحرمین کا تحقیقی جائزہ اس کی روشن مثال ہے۔مولوی الیاس گھمن صاحب نے پوری ایک صدی کے بریلوی مولویوں کے اعتراضات کا جواب دینے کی کوشش کی ہے اور اپنے خیال میں دیوبندیوں پر لگے۔ختم نبوت کے انکار کے الزام کا کافی و شافی جواب دے دیا ہے یعنی وہ فرماتے ہیں کہ بریلوی حسام الحرمین میں ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ تحذیر الناس کے ختم نبوت والے معنی تو احمدیوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور یوں دیو بندیوں اور احمد یوں کے ختم نبوت کی تفسیر یکساں ہے۔اور پھر اس کا جواب وہ یہ نہیں دیتے کہ دیو بندی اور احمدی موقف و