دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 76
76 بھائی آبسته بولو کہیں احمدی سن نه لیں تحریر کے اس حصے میں بریلوی مولویوں کے اعتراضات اور دیو بندی صاحب کے جواب اور اسی تناظر میں جماعت احمدیہ کا موقف پیش کر کے اُس جارحانہ تنگی منافقت کی نشاندہی کرنا چاہوں گا جو آج ان دونوں گروپوں کا طرہ امتیاز بنی ہوئی ہے۔دونوں کس دیدہ دلیری سے مشترکہ پریس کانفرنسز کرتے ہیں اور پیٹ بھر کر جماعت احمدیہ کو گالیاں دیتے ہیں۔اور فخریہ اعلان کرتے ہیں کہ آج 72 فرقوں نے مشترکہ طور پر جماعت احمدیہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا ہے اور جب اس سارے سیاسی دنگل یا سیاسی Show کو ختم کر کے اپنے محلے کی اور اپنے مسلک کی مسجد میں واپس جاتے ہیں تو سب سے پہلا نعرہ ہی یہ لگاتے ہیں۔دیوبندی وہابی منکرین ختم نبوت اور گستاخان رسول ہیں“ بريلوى بهائيومان لوتحذير الناس سچی ہے یا پھرہم سب کافرہیں مولوی الیاس گھمن صاحب نے صفحہ 129 پر اعتراض نمبر 6 کے تحت جو بریلوی اعتراضات اور اپنے جوابات داخل کئے وہ کمل طور پر درج کئے دیتا ہوں۔اعتراض نمبر 6 آپ کا عقیدہ احمدیوں کے لئے مفید ہے حجتہ الاسلام پر اعتراض کرتے ہوئے سید قسم شاہ بخاری صاحب لکھتے ہیں : قرآن حکیم نے جب خاتم النبیین فرما دیا تو آیت آپ کے آخری نبی ہونے میں نص قطعی ہو گئی۔آخری نبی کا معنی خود حضور صلی شما پیہم نے بتایا صحابہ کرام تابعین اور تمام امت محمدیہ علی صاحبها الصلوة والسلام کا عقیدہ ایمان اسی پر رہا اور اسی پر رہے گا۔جملہ ائمہ کرام مفسرین و محدثین نے قرآن وحدیث کی روشنی میں یہی بتایا کہ خاتم بمعنی آخری نبی ہے اسی پر اجماع ہے۔اور اس پر تواتر ثابت ہے۔اس معنی میں نہ کوئی تاویل مانی جائے گی نہ کوئی تخصیص بلکہ تاویل و تخصیص کرنے والا بھی خارج از اسلام ہوگا اور سمجھ بوجھ کر بھی ایسے کافر کے کفر میں شک کرنے والا اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔(ختم نبوت اور تحذیر الناس ،صفحہ 23)