دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 6
6 تھا۔کا کول گاؤں سے دائیں جانب کیہال کا یہ محلہ جس میں ایک دکھیاری والدہ اپنے بچے کو mash کر کے کھانا کھلا رہی ہے۔چند سال قبل اس بچے کو گلی میں کھیلتے ہوئے پکڑ کر دھو کہ سے نیلہ تھو تھا کھلا دیا گیا۔ڈاکٹروں نے 10 گھنٹے کے لمبے اپریشن کے بعد اس کے معدے کو wash کر دیا مگر زہر کی وجہ سے کھانے کی نالی damage ہو چکی تھی اس لئے نالی کو کاٹ کر چھوٹا کر کے معدے کو تھوڑا اوپر کر کے لگانا پڑا تھا۔اس سے زندگی تو بچ گئی مگر بچے کے لئے ناریل کھانا کھانا ناممکن ہو گیا۔اس لئے اس کی والدہ بیگم نذیر لغمانی صاحبہ سال ہا سال سے اسے چیزیں پیس پیس کر تھوڑا تھورا کر کے وقتاً فوقتاً کھلاتی رہتی ہیں۔یہ تمام معصومین اور بہت سارے شہداء کے یتیم بچے آنکھوں میں سوال لئے بیٹھے ہیں ان علمائے دین سے جو دین کا بہت سارا علم رکھتے ہیں۔جو دین کا بہت سا نام جیتے ہیں۔ان معصوم چہروں پر ایک ہی سوال ہے۔بہت سادہ ، بہت معصوم مگر ابدی صداقتوں کا حامل کہ اسلام تو دوسروں کے لئے جان دینے کا نام ہے پھر معصوموں کی جان لینے کی رسم کہاں سے آگئی؟ اسلام تو چرند پرند تک کے لئے رحمت تھا پھر یہ زحمت کا پرچار کیوں شروع کر دیا گیا؟ وادی ہزارہ میں 10 سال خاکسار کو مربی سلسلہ کی حیثیت سے خدمت دین کی توفیق ملی۔ان دس سالوں میں کبھی شہداء کے وارثین کو دلاسہ دیا تو بھی اسیران راہ مولا کوتسلی۔اور جب تھک گیا تو آرام کرنے خود بھی کبھی کبھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے جا لیٹا۔ان 10 سالوں میں سینکڑوں بچوں نے سینکڑوں ہی سوال کئے۔میں نے ان سب کا خلاصہ قلم کی زبان میں محفوظ کر دیا ہے کہ کبھی تو زمانہ تعصب کی عینک اتار کر منافقت کی اس دھند کے پار دیکھنے کی کوشش کرے گا۔زیر نظر تحریر میں جماعت احمدیہ کا ختم نبوت کے بارے مؤقف بیان نہیں کیا گیا بلکہ علمائے دہر کے اُن دہرے معیاروں کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی گئی ہے جسے وقت کی مصلحت