دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 5
50 عرض حال وادی ہزارہ کے نام کے ساتھ ہی ذہن کی سکرین پر کاغان کی برفیلی پیالہ نما جھیل سیف الملوک ، ناران کی آبشاریں ، شنکیاری کے چائے کے باغات ، لالہ زار کے ریشمی سبزہ زار ڈاڈر کے جھرنے ، اور جنگل منگل کے گھنے لہلہاتے جنگلات گدگدانے لگتے ہیں لیکن دسمبر 1992 کی ایک شام بالاکوٹ سے واپسی پر میں اسی جنگل سے گزرتے ہوئے کتنا اداس تھا۔بادلوں سے ڈھکے سرسبز چیڑھ کے جنگلات میں گاڑی ایک موڑ سے دوسرے میں داخل ہو رہی تھی مگر میرے کان میں ابھی تک وہی صدائیں گونج رہی تھیں۔ہاں اُس بوڑھی والدہ کی سکیوں کی آواز میں جس کے 10 سالہ بیمار بچے کو اس کے خاوند کے ساتھ ہی کلہاڑیوں کے وار سے ذبح کر کے جشن منانے اور فٹ بال کھیلنے کی مکروہ اور گھناؤنی رسم کا آغاز کیا گیا تھا۔وہ بوڑھی والدہ دونوں قبروں کے سرہانے کھڑی کہانی سنا رہی تھی۔1974 کے حالات ، جلوس، گھیراؤ ، نعرے ، گالیاں چینیں ، سسکیاں، آگ کے شعلے ، خون کی ہولی اور پھر نعرے اور مبارک بادیں۔وہ سناتی رہی۔اور پھر کسی وقت میری بوجھل پلکوں سے اُس بوڑھی والدہ کا سرا پا دھندلا سا نظر آنا شروع ہو گیا۔شائد میں بھی رو رہا تھا۔یہ بیٹا محمد زماں خان شہید صدر جماعت احمدیہ آف بالا کوٹ کا بچہ مبارک احمد تھا اور باپ بیٹے کی یہ دونوں قبریں بالاکوٹ کے داخلی دروازے پر دریائے کنہار کے کنارے آج بھی آباد ہیں۔بالا کوٹ سے لوٹا تو ایبٹ آبا دا چھڑیاں گندے نالے کے پاس سے گزرا جس میں محمد احمد بھٹی صاحب شہید کا جسدِ خاکی نظر آیا۔جن کو ڈنڈوں اور پتھروں سے مار مار کر شہید کر دیا گیا تھا اور پھر سارا دن گلے میں رسی ڈال کر گھسیٹتے رہے شام کو تھک گئے تو اس گندے نالے میں پھینک کر چلے گئے۔میں نے دیکھا ، شہید کی عظمت کو سلام کیا اور آگے گزر گیا کیونکہ آج مجھے ایک اور ماں سے ملنا