دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال

by Other Authors

Page 46 of 101

دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 46

46 چاہیئے۔اب تو آنکھیں کھل گئیں کہ فتویٰ میں مرزائی قادیانی کو مطلق کا فرنہیں کہا جا رہا بلکہ چند علما ء ایسے بھی ہیں جو مرزائیوں کو کا فرنہیں کہتے۔“ (سیاہ دیوبند کے لئے لحہ فکریہ صفحہ 474، از تبسم شاہ بخاری) برقع پوش کتابیں اور دیوبندی خیانت انٹرنیٹ پر بریلوی عالم دین ابوالنعمان رضا صاحب کی طرف سے اشرف علی تھانوی اور قادیانی بھائی بھائی کے زیر عنوان برقع پوش کتابیں کے نام سے مضمون موجود ہے۔یہ 29 صفحات کا مضمون ایک عجیب حیرت کدہ ہے۔مضمون نگار ابتداء یوں کرتا ہے " آپ کے ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھ رہا کہ بھائی یہ برقعہ پوش خواتین اور برقعہ پوش مولوی تو دیکھے اور سنے ہیں لیکن یہ برقعہ پوش کتابیں؟؟ کیا آج کل کتابوں نے بھی برقعہ پہننا شروع کر دیا ہے؟؟ ان کا برقعہ کیسا ہوتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔سوال آپ کے ذہن میں پیدا ہورہے ہونگے۔جی ہاں۔۔۔۔۔ایک کتاب ہماری نظر میں جس نے کئی سالوں سے برقعہ پہن کر ایک مولوی کو معزز و مجدد وحکیم الامت بنایا ہوا ہے۔۔۔جی جناب اشرف علی تھانوی کی ہی بات کر رہے ہیں اور ان کی وہ کتاب جو کئی سالوں سے برقع پہنے اب بھی دیوبندی مکاتب سے پبلش ہو رہی ہے اس کا اصل نام ہے المصالح العقلیہ للاحکام النقلیہ کراچی کے دیوبندی مکتبہ دارلاشاعت سے احکام اسلام " م عقل کی نظر میں میں اب بھی چھپ رہی ہے۔اگر آپ کو سمجھ نہیں آئی تو سن لیجئے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کو حکیم الدیوبند نے اپنے نام کا برقعہ پہنا کر اضافہ کے ساتھ پبلش کر دی“ آگے انہوں نے صفحوں کے صفحے آمنے سامنے درج کر کے دکھایا ہے کہ کس طرح مولوی اشرف علی نے لفظا لفظاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں سے چوری کر کے اپنے نام سے شائع کر دیا اور