دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال

by Other Authors

Page 20 of 101

دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 20

20 دسمبر 1918ء میں کٹک (صوبہ بہار کے ایک احمدی دوست کی اہلیہ فوت ہو گئیں۔انہوں نے اسے قبرستان میں دفن کر دیا۔جب مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ ایک احمدی خاتون کی لاش ان کے قبرستان میں دفن کی گئی ہے تو انہوں نے قبر اکھیڑ کر اس لاش کو نکالا اور اس احمدی کے دروازے پر جا کر پھینک دیا۔مرزائیوں کی میت کی ہم خوب مٹی پلید کرتے ہیں۔اہل حدیث نے زیر عنوان ” کٹک میں قادیانیوں کی خاطر درج ذیل فخریہ رپورٹ آف خدمت اسلام پیش کی۔وہ جو کہاوت ہے کہ موئے پر سوڈڑے سو وہ بھی یہاں واجب التعمیل ہو رہی ہے مرزائیوں کی میت کا مت پوچھئے۔شہر میں اگر کسی میت کی خبر پہنچ جاتی ہے تو عام قبرستانوں میں پہرہ بیٹھ جاتا ہے کسی کے ہاتھ میں ڈنڈا ہے، کسی کے ہاتھ میں چھڑی ہے میت کی مٹی پلید ہو رہی ہے کہ کھوجتے تابوت نہیں ملتی۔بیل داروں کی طلب ہوتی تو وہ ٹکا سا جواب دے دیتے ہیں۔بانس اور لکڑی غائب ہو جاتی ہے۔دفن کے واسطے جگہ تلاش کرتے کرتے پھول کا زمانہ بھی گزر جاتا ہے۔ہر صورت سے ناامید ہو کر جب یہ ٹھان لیتے ہیں کہ چلو چپکے سے مکان کے اندر قبر کھود کر گاڑ دیں تو ہاتف غیبی افسران میونسپلٹی کو آگاہ کر دیتے ہیں اور وہ غڑپ سے آموجود ہو کر خرمن امید پر کڑکتی بجلی گرا دیتے ہیں۔“ (اہل حدیث کی تکم فروری 1918 ء کی فخر یہ رپورٹ ) 1928ء کی خدمات 16 / مارچ 1928ء کو بھدرک ( اڑیسہ) میں ایک احمدی شیخ شیر محمد کی بیٹی فوت ہو گئیں دفن کے وقت غیر احمدی بھاری جتھہ لیکر پہنچ گئے اور مارنے پیٹنے لگے آخر والدین لاش گھر لے آئے اور صحن میں دفن کی۔(الفضل 27 / مارچ1928ء) 1936 ء کی خدمات قادیانی بچے کی لاش قبرستان میں دفن کرنے سے رکوا دینے پر خوشی کی لہر اسلام زندہ باد کے نعرے۔۔۔۔۔۔(روز نامہ الہلال کی رپورٹ )