دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 21
21 12 مارچ 1936ء کو بمبئی کے ایک احمدی دوست کا خوردسال بچہ فوت ہو گیا جب اُسے دفن کرنے کے لئے قبرستان لے گئے تو مخالفین نے جھگڑا شروع کر دیا کہ قبرستان سنی مسلمانوں کا ہے۔قادیانیوں کا نہیں کوئی قادیانی یہاں دفن نہیں ہو سکتا۔کیونکہ قادیانی کا فر ہیں پولیس کے ذمہ دار حکام نے جھگڑا بڑھتے دیکھا تو انہوں نے بمبئی میونسپلٹی کے توسط سے ایک الگ قطعہ زمین میں اُسے دفن کرا دیا۔مگرمیت کے دفن کرنے کے لئے جو جگہ دی گئی وہ شہر سے بہت دور اور اچھوت کا مرگھٹ ہے۔روز نامہ الہلال بمبئی اس واقعہ کا ذکر تے ہوئے لکھتا ہے کہ جب مسلمانوں نے یہ خبر سنی کہ احمدی میت اس قبرستان میں دفن نہیں کی جائے گی تو اس اطلاع کے ملتے ہی مسلمانوں نے اسلام زندہ باد کے نعرے لگائے۔ہر شخص مسرت سے شاداں نظر آتا تھا۔وغیرہ وغیرہ الہلال بمبئی 14 / مارچ 1936ء) یہ تو وہ چند خدمات کے مظاہرے ہیں جو انگریزی سرکار جیسی عدل پرور حکومت کے دور میں بجا لائے گئے۔پاکستان بننے کے بعد ان میں کتنی ترقی کی گئی اس کا نظارہ کرنے کے لئے دیکھئے " تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ“ نعشوں کی بے حرمتی جیسا مکر وہ کام بھی قبول ہے آخر وہ کون سی سفاک مجبوری ہے جس کے خونی پنجوں کی تاب نہ لاتے ہوئے ایک دیو بندی عالم دین جو قرآن و رسول کی تعلیمات کا فدائی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔انسانیت کی تمام قدر میں بھول کر اس قدر بے حس بن جاتا ہے کہ نعشوں کی بے حرمتی اور ان کو قبروں سے باہر اکھیڑ پھینکنے کو فتح اسلام قرار دینے لگ جاتا ہے اور اس پر شاداں ہوتا اور اسلام زندہ باد کے نعرے لگانے لگ جاتا ہے آخر وہ مجبوری ہے کیا؟ ” جب مسلمانوں نے یہ خبر سنی کہ احمدی میت اس قبرستان میں دفن نہیں کی جائے گی تو اس اطلاع