دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 19
19 سپاہی جو لاش کے تعفن اور بوجھ سے پریشان ہو چکے تھے۔کچھ دور تک لاش کو اٹھا کر لے جاسکے اور شام ہو جانے کے باعث دریائے کو سی کے کنارے صرف ریت کے نیچے چھپا کر واپس آگئے۔دوسرے روز صبح کو شہر میں یہ خبر اڑ گئی کہ قاسم علی کی لاش گیدڑوں نے باہر نکال کر گوشت کھالیا۔اور ڈھانچہ باہر پڑا ہوا ہے۔یہ سن کر شہر کے ہزاروں لوگ اس منظر کو دیکھنے کے لئے جوق در جوق جمع ہو گئے میں بھی موقعہ پر جا پہنچا۔لیکن میری آنکھیں اس آخری منظر کی تاب نہ لاسکیں اور میں ایک پھریری لیکر ایک شخص کی آڑ میں ہو گیا قاسم علی کی لاش کھلے میدان میں ریت پر پڑی تھی اسے گیدڑوں نے باہر نکال لیا تھا اور وہ جسم کا گوشت مکمل طور پر نہیں کھا سکتے تھے منہ اور گھٹنوں پر گوشت ہنوز موجود تھا۔باقی جسم سفید ہڈیوں کا ڈھانچا تھا آنکھوں کی بجائے دھنسے ہوئے غار اور منہ پر داڑھی کے اکثر بال ایک دردناک منظر پیش کر رہے تھے آخر کار پولیس نے لاش مزدوروں سے اٹھوا کر دریائے کوسی کے سپر دکر دی اور اس طرح ایک امیر جماعت مرزائیہ کا انجام ہوا۔“ ( روزنامہ زمیندار 21 جنوری 1951ء) 1915ء کی خدمات 20 اگست 1915 ء کو کنا نورا ( مالا بار) کے ایک احمدی کے۔ایس۔احسن کا ایک چھوٹا بچہ فوت ہو گیا ریاست کے راجہ صاحب نے حکم دے دیا کہ چونکہ قاضی نے احمدیوں کے متعلق کفر کا فتویٰ دے دیا ہے اس لئے اس کی نعش مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہوسکتی۔چنانچہ وہ بچہ اس دن دفن نہ ہوسکا دوسرے دن بھی شام کے قریب مسلمانوں کے قبرستان سے 2 میل دور اس نعش کو دفن کیا گیا۔“ الفضل 19 اکتوبر 1915 صفحہ 6) 1918ء کی خدمات احمدی عورت کی مدفون نعش اکھیڑ کر اس کے شوہر کے دروازے پر لا کر پھینک دی۔“ اہل حدیث 6 دسمبر 1918ء)