بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 67
67 نے جب یہ دو شعر پڑھے۔ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے کوئی دیں دین محمد سا نہ پایا ہم نے ہم ہوئے خیر امم تجھ سے ہی اے خیر رسل تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے تو پورا مجمع مسحور ہو گیا اور مولانا احمد اللہ صاحب بھی بہت متاثر ہوئے اور رو پڑے۔جب میں سٹیج سے نیچے آیا تو مولانا نے مجھ سے فرمایا بیٹے تم نے ہم کو رلا دیا۔میری تقریروں کو سن کر حضرت الاستاذ علامہ عبید اللہ صاحب رحمانی مبارکپوری شیخ الحدیث مد ظلہ العالی نے مجھے خطیب الہند اور خطیب الاسلام کے لقب سے نوازا۔" (ہفت روزہ " الاعتصام " لاہور ۸ جولائی ۱۹۹۴ء صفحہ ۱۷-۱۸) "مولانا" صاحب نے فلسفہ ختم نبوت کو واضح کرنے کیلئے جو دو اشعار پڑھے اور پورے مجمع بلکہ اپنے قابل احترام اساتذہ سے داد پائی وہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی عشق خاتم الانبیاء میں ڈوبی ہوئی ایک مشہور عالم نظم سے ماخوذ تھے جو آپ کی بے مثال تصنیف "آئینہ کمالات اسلام" کے صفحہ ۲۲۴ میں موجود ہے اور ۱۸۹۳ء میں شائع ہوئی۔" -۲۴۔میرحسان الحیدری سهروردی مدیر اعلیٰ رساله آستانه ذکریا ملتان حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے "آئینہ کمالات اسلام" کے آخر میں اپنے فارسی منظوم کلام میں دنیا بھر کے دشمنان اسلام کو نشان نمائی کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا :۔بیا بنگر زغلمان محمد کرامت گرچه بی نام و نشان است یعنی اگر چه کرامت اب مفقود ہے مگر تو آ اور اسے محمد ملا کے غلاموں میں دیکھ