بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 66 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 66

66 کے صفحہ گیارہ پر یہ لکھ کر کہ یہ نظم غوث محمد گوالیاری نے جواہر خمسہ 1ء میں تحریر فرمائی کذب بیانی کے ذریعہ حق کو چھپا کر پبلک کو مغالطہ میں ڈالا ہے۔زبانی گفتگو کرنے پر مولوی صاحب نے کہا یہ نظم مرزا صاحب کی نہیں بلکہ جواھر خمسہ کی ہے۔گو ہم نے جواہر خمسہ بھی مہیا کر کے مولوی صاحب کے ہاتھ میں دی کہ اس سے حوالہ مذکور نکال کر دکھائیں۔مگر مولوی صاحب وہ نظم نکال نہ سکے لیکن باوجود اس کے انہوں نے اپنی خیانت کا اعتراف نہ کیا۔اب میں بذریعہ اخبار ان سے مطالبہ کرتا ہوں که یا تو جواهر خمسہ سے یہ نظم دکھائیں یا اقرار کریں کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظم اپنی کتاب میں درج کی ہے۔" جناب مولوی محمد مسلم صاحب نے اس مطالبہ کے جواب میں ہمیشہ کے لئے چپ سادھ لی۔-۲۳ " مولانا عبد الرؤف رحمانی صاحب ناظم اعلیٰ جامعہ سراج العلوم السلفیہ۔جھنڈے نگر۔نیپال آپ اپنی سوانح پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:۔جس سال میں۔۔۔۔آٹھویں جماعت پڑھ کر فارغ ہو رہا تھا تو ختم نبوت کے فلسفہ پر سالانہ انجمن کے موقعہ پر ہم کو اور ہمارے کچھ رفقاء کو خطاب کرنے کے لئے کہا گیا۔صدر انجمن مولانا محمد جونا گڑھی مرحوم کے حکم کے مطابق مجھے صرف پانچ منٹ ہی کا موقع ملا۔دار الحدیث رحمانیہ کا ہال کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔جب میں نے تقریر کرنا شروع کیا تو پانچ منٹ کی تقریر میں تین مرتبہ لوگوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور تقریر کے خاتمہ پر میں له تألیف گیارھویں صدی ہجری۔اصل کتاب فارسی میں ہے جس کا اردو ترجمہ مرزا محمد بیگ نقشبندی دہلوی نے کیا ہے اور دارالاشاعت کراچی نمبرا کے زیر اہتمام مولوی محمد رضی عثمانی نے ۱۸ جنوری ۱۹۷۶ء کو شائع کر دیا ہے۔