بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 218 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 218

218 احکام اسلام عقل کی نظر میں ۴۹ حصہ اول عبارت قرآنی سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ ان اوقات میں زمین اور آسمان کے اندر تغیرات عظیمہ واقع ہوتے ہیں جن میں ما تعالی کے جدید تسبیح وتحمید کا موقع آتا ہے اوران تغیرات کا اثر انسان روح اور ہم دونوں پرواقع ہوتا ہے الغرض پنج گانہ نمازیں کیا ہیں وہ تہائے مختلف حالات کا فوٹو ہیں میں تمہاری زندگی کے لازم حال پا نچ تغیر میں جوتم پروارد ہوتے ہیں اور تمہاری حضرات کیلئے ان کا وارد ہونا ضرو ر ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔وجہ تین (1) پہلے جب کرتم مطلع کئے جاتے ہو کہ تم پر ایک بال آنے والی ہے۔مثلا جیسے نماز ظہر تمہارے نام عدالت سے ایک وارنٹ جاری ہو یہ پہلی حالت ہے جس نے تمہارے تسلی اور خوش حالی میں نکل ڈالا۔سو یہ حالت زوال کے وقت سے مشابہ ہے کیونکہ اس سے پنی خوش حالی کے زوال کے مقدور ہونے پر استدلال کیا جاسکتا ہے۔اس کے مقابل پر ناظر متعین ہوئی جس کا وقت زوال آفتاب سے شروع ہوتا ہے کرتا کہ جس کے قبضہ میں وہ زوالی ہے اُس کی قدرت کو یاد کر کے اس کی طرف تو جبر کی جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زوال کی ساعت کی نسبت فرمایا ہے کہ اس میں آسمان کے دروازے کھلتے ہیں اس لئے میں پسند کرتا ہوں کہ اس وقت میرا کوئی عمل آسمان کی طرف مصعود کرے۔نیز اس وقت کے تغیر کا بھی یہی مقتضا ہے کہ حق تعالی کی طرف توجہ کی جائے چنانچہ اس تغیر کے آثار جو جسم انسان پر ظاہر ہوتے ہیں طبیبوں نے اپنی طبی کتابوں میں بیان فرمائے ہیں۔چنانچہ مفرح القلوب شرح قانونچہ میں لکھا ہے کہ نوم بعد زوال کہ مسمی است جلیلی كون حائلا بين النائم والعمالة حدثت نسیان است - ترجمہ : یعنی دو پیر کے بعد نیند میں کو حیلولر کہتے ہیں نسیان کا مرض پیدا کرتی ہے اور حلولہ اس کو اس لئے کہتے ہیں کہ سونے والے اور نماز کے درمیان حائل ہو جاتی ہے سو اس تغیر سے بچنے کے لئے بھی بجائے نوم کے اشتغال بالطاعة مصلحت ہے۔ظہر کو ٹھنڈا کر کے آنحضرت صلیاللہ علیہ وآلہ وسلم فراتے ہیں اذا اشتد الحر فابردو! پڑھنے کی حکمت بالظهر فان شدة الحرمن فلم جهنم - ترجمہ: یعنی جب گرمی کی شد موت ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کا جوش ہے۔اس سے مطلب کا