بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 219 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 219

219 او کام اسلام عقل کی نظریں 144 صدوم و تویہ ہے کہ جیسے ازدواج وتز دن میں صریح مبارکباد قبول کرتے ہیں اس طرح اپنا تاب عورتوں کے متعہ کے متعلق اس مبارکباد کو برداشت نہ کر سکیں یہ تو عقلی دلیل تھی اور نقلی اوپر بیان ہو چکیں اور اور بھی لکھی جاتی ہیں۔عن علی بن ابی طالب ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن متعة النساء ترجمہ یعنی علی مرتضی سے روایت ہے کہ نبی اکرم اللہ علیہ وسلم نے منع فرما با عورتوں سے متعہ کرنا ترندی وغیرہ نے اس حدیث کی تصیح کی اور حرمت متعہ پر صحابہ کرام کا اتفاق تھا۔البتہ حضرت ابن عباس قدیم ملکی روایات اور عادت کے باعث ہند روز مجوز رہے مگر جب ان کو شرعی حکم کی اطلاع پہنچی تو تجویز معہ سے رجوع کیا اورمتعہ کی حرمت تمام نیاورانی اور مالکیہ اور حنابلہ اور اہمیت اور صوفیہ کرام میں متفق علیہ ہے۔مستورات اور مردوں کے پردہ کے متعلق اسلام نے مرد عورت کیلئے ایسے ایسے لئے اسلامی پردہ کے وجوہ اصول بتائے ہیں۔جن کی پابندی سے ان کی عفت و عات پر حرف نہ آئے اور وہ بدی کے ارتکاب سے محفوظ اور معنون یہ ہیں۔چنانچہ اللہتعالی فرماتا ہے۔قل للمؤمنين يغضوا من أبصارهم ويحفظوا فروجهم ذلك ان كى لهم ان الله خبير بما يصنعون وقل للمؤمنات يغضضن من الصار من ويحفظن فروجهن ولا يبدين زينتهن الاما ظهر منها وليعنى بن بخمرهن على جيوبهن إلى قوله تعالى ولا يفر بن بارجلهن ليعلم ما نحيفين من زينتهن وتويو إلى الله جميعا ايه المؤمنون لعلكم تفلحون۔ولا تقر بوالزنا انه كان ناحشة وساء سبيلاء وليستعفف الذين لا میں دن نکا خا - در مبانيه ابتدعوها ما كتبناها عليهم إلى قوله تعالى قمار عربها يجد حقى خاية ی اینها از جم یعنی ایماندار مردوں کو کہدے کہ آنکھوں کو نا محرم عورتوں کے دیکھنے سے بچائے رکھیں لینی ایسی عورتوں کو کھلے طور نہ دیکھیں جو شہوت کا محل ہو سکتی ہوں اور ایسے موقع پر نگاہ کو پست رکھیں اور اپنی ستر کی جگہ کو جس طرح مکن تو بچا دیں را لیا ہی کانوں کو نا محرموں سے بچاویں لینی بیگانے کے گانے بجانے اور خوش الحانی کی آواز میں نہ سنیں انکے حسن کے قصے نہ سنین علیا دوسری نصوں میں ہے ، یہ طریق يعني