بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 217 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 217

احکام اسلام عقل کی نظر میں 217 ۴۸ مقاول (۴) نماز کے لئے وقت کا مقدر کرناضروری ہے کیونکہ وقت کے تعین سے انسانوں کے دیوں کو اس کی طرف توجہ رہتی ہے اور ان کو جمعیت رہتی ہے اور یہ جھگڑا نہیں رہتا کہ شخص اپنی رائے پر پہلے کیونکہ جس امر کی تعین نہ ہو اس میں ہر شخص اپنی رائے کا دخل دینا چاہتا ہے خواہ اس میں اس کا نقصان ہی کیوں نہ ہو۔(۵) اگر عبادات کے لئے اوقات معین نہ ہوتے تو کر لوگ تھوڑی سی نماز روزہ کو زیاد خیال کرتے جو بالکل رائیگاں اور غیر مقید ہوتا۔تین اوقات میں یہ بھی ایجا ہے کہ اگر کوئی شخص ان اوقات کی پابندی سے آزاد رہنا چاہیے، اور ان کے ترک کرنے کے خیلے حوالے (4) يا کرے تو اس کی گوشمالی ممکن ہو سکے۔حکمت الہی کا اقتضا ہوا کہ انسان کوزمانہ کے ہر ایک محمد د عصر کے بعد نمازکی پابندی کا اور اسکے تعین قت کا نام دیا جائے تاکہ نمازسے قبل اس کا انتظار کرنا اوراس کے لئے تیار رہنا اور نماز کے بعد اس کے نور کا اثر اور اس کے رنگ کا باقی رہنا بمنزلہ نماز ہی کے ہو جائے اور غفلت کے اوقات میں خدا تعالیٰ کا ذکر مد نظر رہا کرے اور اس کے اطاعت میں دل متعلق رہے اس میں سلمان کا حال اس گھوڑے کی طرح رہتا ہے جس کی اگاڑی پچھاڑی بندھی ہوتی ہے اور ایک دو دفعہ گرودتا ہے اور پھر بے بس ہو کر رہ جاتا ہے اور نماز کی پابندی سے غفلت اور گناہوں کی سیاہی بھی دلوں کے اندر نہیں بیٹھتی۔(۷) تقر ر اوقات خمسه مین پابندی اوقات کی طرف اور امور مہتر میں تاثیر نہ کرنے کی طرف اینا ہے لا تو خر عمان اليوم لغد یعنی آج کا کام کل پر نہ چھوڑو۔وجہ تین اوقات خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں نماز کے پنج گانہ اوقات کی خصوصیت کی فلاسفی پنجگانہ نماز اور حقیقت سمجھنے کے لئے اوقات مسہ کے اوصاف مؤثرہ کی طرف توقیہ ولائی ہے۔چنانچہ وہ فرماتے ہیں:۔فسبحان الله حين تمسون وحين تصبحون وليه الحمداني السموت الارض وعشيار حسین تظهرون - ترجمہ : خدا تعالیٰ کی یاد کا امت ہے جب تم شام کرے اور جب صبح کرے اور اس کی خوبیاں بیان کی جاتی ہیں آسمانوں میں اور زمین میں اور پچھلے وقت اور دوپہر ہیں۔