بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 220
احکام اسلام عقل کی نظر میں 220 146 حصہ دارم مرووم نظر اور دل کے پاک رہنے کے لئے عمدہ طریق ہے ایسا ہی ایماندار عورتوں کو کہاہے کہ دہ بھی اپنی انکھوں کو نامحرم مردوں کے دیکھنے سے بچائیں انیران کی پر شہوات آدا زمیں نہ نہیں عبیا دوسری نصوص میں ہے ، اپنے ستر کی جگہ کو پردہ میں رکھیں اور اپنے پینے کے اعضاء کو کسی غیر محرم پر نہ کولی اور اپنی اور معنی کو اسطرح سر پر لیں کہ گریبان سے ہو کر سر پر آجائے لینی گھریاں ار دونوں کان اور سر اور کنپٹیاں سب چادر کے پردہ میں نہیں اور اپنے پیروں کو زمین پر درنا پچنے والیوں کی طرح نہ ماریں دیہ وہ تدبیر ہے کہ جس کی پابندی ٹھوکر سے بچا سکتی ہے، اور دوسرا طریق بچنے کے لئے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کر دو اور اس سے دعا کر دو تا کہ ٹھوکر سے بچاو سے اور لغزشوں سے نجات دے ازنا کے قریب مت جاؤ یعنی ایسی تقریبوں سے دور ہو جن سے یہ خیال بھی دل میں پیدا ہو سکتا ہے اوران راہوں کو اختیار نہ کر جن سے اس گناہ کے وقوع کا اندیشہ جوزہ نا کہ نا نہایت درجہ کی بے حیائی ہے زنا کی راہ بہت بری ہے لینی منزل مقصود سے روکتی ہے اور تمہاری اخروی منزل کیلئے سخت خطرناک ہے اور جس کو نکاح میسر نہ آدے چا ہیے کہ وہ اپنے میں دوسرے طریقوں سے بچارے مثلاً روزہ رکھے یا کم کھائے یا اپنی طاقتوں سے تن آزاد کام سے اور ان لوگوں نے یہ طریق بھی نکالے تھے کہ وہ ہمیشہ عمدہ نکاح وغیرہ سے دست بردار رہے یا خو ہے (محنت بن گئے یا اور کسی طریق سے انہوں نے رہبانیت اختیار کی مگر ہم نے ان پر یہ حکم فرض نہیں کیا اور پھروہ ان بدعتوں کو بھی پورے طور پر تباہ نہ سکے خدا تعالٰی کے قول کے عموم میں یہ مضمون کہ ہمارا یہ حکم نہیں کہ لوگ خو ہے نہیں۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ اگر خدا کا حکم اور سب لوگ اس پر عمل کرتے ہوتے تو اس صورت میں بنی آدم کی قطع نسل ہو کہ کبھی کا دنیا کا خاتمہ ہو چکتا اور نیز اگر اس طرح پر عفت حاصل کرنا ہو کہ عضو مردمی کو کاٹ دیا ہارے یہ در پردہ اس صانع پر اعتراض ہے جس نے وہ عضو بنا یا اور نیز ثواب کا تمام دار تو اس بات پرت کہ قوت موجود ہو اور پھر انسان خدا تعالی کا خوف کر کے ممانعت کی جگہ اس قوت کے جذبات کا مقابلہ کر کے اور اجازت کی جگہ اس کے منافع سے :