بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 221
ایڈیٹو جی امیر مفتی ہفت روزه 221 قائد منظفر آباد آزاد کشمیر ٣٣ شماره ۳۳ جمعرات ۲۲ اگست ہونا که * 3 + عذاب اہلی یہ سیلاب کیا ہے ؟ عذاب اپنی سبب اس کا ترکی کی آپ اپنی پھوٹی اور فتح و انجماد سے بات نہیں ہوتے اور ظالم اور جابر حکرانوں کے خانہ جہان نہیں کر تے جارہے لئے طبقات نوح مقلد ہے۔فعالی جرم خدا کی لعنت سے محدود ہو تم میں سے نازل ہوتی ہے اور جیسی پر پڑتی ہے اسکی بعد لوں جہانوں میں بھلے کتر کر جاتی ہے۔تم ریا کار کا کے ساتھ اپنے میں بچا نہیں سکتے۔کیوں کہ وہ اعمال کہ ہوں تو پھر لا محالہ خدا ہو تمہارا خدا ہے ان کی انسان کے پاتال ہے تضل اپنی : عتاب اپنی ایک تار ہے۔کیا تم اس کو دھو کر دے سکتے ہیں۔یس کر سیدھے ہار جاده الازمات بھی لیا ہے۔الرجاء آزاد کشمیر کے متبار قانون جان بنا ندارید کا معاملہ ہو یا سرکاری نور ہونے سے رقوم میں کرتے۔اس مالک ہو جانا رکھ رہے ہے مارد اگر تمہار ہے بنانی ہو یا مرنے سے فلام منگون شده ایڈور کوٹ کے ان اشعار نے کا مسئلہ ہو ٹلی سپیدروں جنگلات کے ٹھیکیداروں کسی پہلو میں جنسی یا دریا ہے یا خود پسندی ہے ٹرانسپوٹروں باری ته ای یاست فریده چندان کردی که نام بند نکته را نه در شوت کا معاظ ہوں ہم نے ہر محال باسل نہ ہے۔تو تم پلیس چیز نہیں ہیں کہ جو صول کے کو بتا کر نے واہ کیا خود ہم سے اندیہ مرد کو رہا کرتی اور جو کہ کو شمار زندگی بنایا ہم نے لائی ہو تم چند باتوں کو لے کر اپنے تئیں دھر کہ کانی مجاہدوں کو یہ کہہ کر روٹ دلوائے تو بقول دو کہ تھی کہ ہم نے کرنا تھا کے یا ہے گرند او بیندا کو توجه سے ار اینڈو سے جین که خلفه آیا است شاها به سبب قام کیا جائے۔رمیوں کو دہندہ کا تشہیر کے بعد اس کاک سلام صلی اللہ کے فرمان کو داڑھی کے حمد ھو کہ نہیں دے سکتے ہو۔کیا دبخت او انسان سال پاکستہ ان میں یا طرح میلیان ، آیا اس سے نشان کو ووٹ دو ہے جو کھا ی ایک ہے پتہ نہیں کہ اس کا ایک جدا طوقان نوع کے زمانے کی یاد تازہ ہوتی ہے۔اور اور پھر بعضی لوگوں نے روٹ حاصل کی ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔اسے فورد مواس کا قصہ کوئی تعجیب با اگر ہم نے تو یہ نہ کی نبوت خدا کے ڈا کے بارے ظلم و تشدد کیا دانشور میں" کی طرف دور ڈرو کہ وہ تمہیں میر اپ کو یکا یا نان کی سے نہیں ڈرے اپنے دلوں کو نہ ٹولہ اور گمراہی کے ایک طبقے نے اپنے ذاتی اور نفسانی اغراض کا چشمہ ہے جو بچائے گا۔میں کسی دن سے کے راستے پر ہی چلتے رہے تو طوریان فوج کا نظارہ کے پیش نظر ان لٹیروں کی وکالت کو اپنا پیشہ بنایا منادی کروں کہ وہ خدا حمہ تمہارے دلوں کے پوری صفائی کے ساتھ ظاہر ہو جائے، آنا نکشید اور عام طبقہ ان کے بعد رنگ روپ دیکھ کر اور تاریک گوشوں پر نظر رکھتا ہے تم سے مجھے کی کو تو اور سلامتی کا دار و مدار ہی پاکستان کیا سمجھ کر خاموش رہا۔یہ سمجھا کہ ۱۹۷۲ء میں بھی نفسانی تبدیل کا خواہاں ہے تم جا کی جارہ سستی ہوتی اور استحکام پر ہے۔پاکستان کی مشال آزاد بارے عوام میں قومی اور سیاسی شعور نہیں ہے۔یہ نیاری لیڈروں کی پیروی مت کہ واجہ ابن کو کشمیر کے لئے ایک ماں کی ہے پید اگر خدا نخی است غلط ہے۔البتہ ظلم نستی و جو براور ریا کاری کے عزت کی نگاہ سے مت دیکھو یہ سید نادانیاں ماں کی چھاتیوں رات وہ رو شک ہو جائے یا کسی خلاف متحد ہو کہ زبان نہ کھونا بھی الگتا ہے بنایا۔ہلاک ہو گئے وہ لوگ جو اس دنیا دی سے وہ مصیبت میں بتایا ہو، تو یہ بچہ بچہ ایک ایک جس کی مرتکب ساری قوم ہے۔کیا لال کپور فلسفہ کے عاشق ہیں اور کامیابیہ ہیں وہ کہ تباہ ہو جائے گا۔ہم نے نیاور اصول کے نام نے ایک افسانہ کے رنگ میں گاندھی کی ایک سے آئی جنہوں نے صراط مستقیم کو خدا کی کتاب پر ایک شمالی اسلامی ریاست بنانے کا سلام کیا سوال کیا کہ وہ کہا کرتے تھے کہ آزادی کے بعد میں ڈھونڈا ہر کردار اور پریا کاری مادر تھا۔لیکن ہمارے کارکنوں لیڈروں، پیڈیروں سکھ اور ترقی کا دور دورہ ہو گا۔مگر ظلم اور بچا ہے بننے کے بغیر جہاد کے تنا کھانے والے صحافیوں ، تاہوں، ٹھیکیداروں انگریزوں اور انا اس کی گھٹائیں ٹک کو گھیرنے ہوئے ہیں اندھے ہیں۔کیا تم اندھوں کے پیچھے دوڑاتے ہو قوم ہر ام کے ہر طبقے نے جس طرح اس عزم کو کھو کھلنے یہ گمان ماضی کی آتا نے جواب دیا کہ وہ اب اس نے نادانو دہ جو خود اندھا ہے نہیں کیا براہ اور بے بنیاد نعروں کے ہر دکر دیا، اس پر آنا کچھ دنیا میں نہیں، مگر ایک بات وضاحت سے کہہ دکھائی گا ؟ وہ جو خود مردار کھا رہے ہیں وہ لکھا جا چکا ہے کہ مزید روشنی ڈالنے کی ضرورت۔دی کہ اخلاقی پستی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ تمہارے لئے کہاں سے پاک نہ الائیں گے۔ہر نہیں رہی۔اسلام کے نام پر دھونس و ماندلیوں۔اب خدا بھی اس قوم کو بچا نہیں سکے نے ایک پاک حکمت آسمان سے آتی ہے اور اس بر عن نیوں اور یہ ہے انصافیوں کو جنم دیا گیا اٹھا ہے اب بھی وقت ہے کہ ہم اس بات کا بھی حکمت کے وارث وہ ہی ہیں جن کے دل بھی کہ اچھی زرس جو یا اوقات کا کنٹرول ، سیرت کا میلہ طرح کجھ لیں زپاکستان اور آزاد کشیدہ کے اوپر پاکیزہ ہیں جن میں صدق وصفا ہے کیا تم ہے۔ر یا تبلیغ کا کارنامہ مزدور کی خدمت ہو یا مصائب اور آفات عناب انہی کی شکل میں نادل ایسے سوراخ میں ہاتھ ڈال سکتے ہو میں میں تعلیم می ترقی مختلف بنکوں میں سے کار کا ر قا م ر کھنے سپرد ، جلسہ ---