بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 85 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 85

85 (۳) براہین احمدیہ حصہ پنجم تالیف ۱۹۰۵ء "سرمه چشم آریہ " کی عبارت خزینه معرفت" کا حسب ذیل اقتباس کتاب سرمہ چشم آریہ کے حاشیہ صفحہ ۱۸۸ تا ۲۰۴ سے معمولی کمی بیش کے ساتھ لفظاً لفظا اخذ کیا گیا ہے۔عادت اللہ۔یا تم یونہی سمجھ لو کہ اس قانون قدرت جو اس کی صفت و حدت کے مناسب حال ہے۔یہی ہے کہ وہ بوجہ واحد ہونے کے اپنے افعال خالقیت میں رعائت وحدت کو دوست رکھتا ہے۔جو کچھ اس نے پیدا کیا ہے۔اگر اس سب کی طرف نظر غور سے دیکھیں تو اس ساری مخلوقات کو جو اس دست قدرت سے صادر ہوئی ہے۔ایک ایسا سلسلہ وحدانی اور باترتیب رشتہ میں مسلک پائیں گے کہ گویا وہ ایک خط ممتد حدود ہے۔جس کے دونوں طرفوں میں سے ایک طرف ارتفاع و بلندی اور دوسری طرف انخفاض یعنی (پستی) اس طرح پر ہے انخفاض ارتفاع اس قدر بیان میں تو ایک موٹی سمجھ کا آدمی بھی اس کے ساتھ اتفاق رائے کر سکتا ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور دائرہ انسانیت میں بہت سے متفاوت اور کم و بیش استعدادیں پائی جاتی ہیں کہ اگر کمی بیشی کے لحاظ سے ان کو ایک با ترتیب سلسلہ میں مرتب کریں تو بلاشبہ اس سے اسی خط مستقیم ممتد محدود کی صورت نکل آئے گی۔جو اوپر ثبت کیا گیا ہے۔طرف ارتفاع کے اخیر کے نقطے پر استعداد کا انسان ہو گا۔جو اپنی استعداد انسانی میں نوع انسان سے بڑھ کر ہے اور طرف انخافض میں ناقص الاستعداد روح ہو گی جو اپنے غائت درجہ کے نقصان کی وجہ سے حیوانات لا عقل کے قریب قریب ہے اور اگر سلسلہ جمادی کی طرف نظر ڈال کر دیکھیں تو اس قاعدہ کو اور بھی تائید پہنچی ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے چھوٹے سے چھوٹے جسم سے لے کر جو ایک ذرہ ہے۔ایک بڑے سے بڑے جسم تک جو آفتاب ہے۔اپنی صفت خالقیت کو تمام کیا ہے اور بلاشبہ خدا تعالی نے اس جمادی سلسلہ میں آفتاب کو ایک عظیم الشان اور نافع اور ذی برکت وجود پیدا کیا ہے کہ طرف