بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 84 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 84

84 نور عقل نور بصیرت اور نور اخلاق تمام انوار لمعانیاں دکھا رہے تھے۔اب نور علی نور ، کا منظر دنیا کے سامنے آتا ہے۔زمینی نور آسمانی نور سے مل کر آفتاب ہدایت بنتا ہے۔عقل و بصیرت کی رہنمائی و دست گیری کے لئے آسمانی نور نمودار ہو جاتا ہے۔یعنی آپ منصب نبوت پر فائز ہوئے۔وحی الہی کا نزول شروع ہو گیا۔گمراہیاں اور ظلمتیں دور ہونے لگیں۔آسمانی نور نے زمینی تاریکیوں کو ڈھونڈ کر نکالنے پر کمر باندھی اور وجود باجود خاتم الانبیاء کا مجمع الانوار بن گیا۔" در ساله مولوی ماه صفر ۱۳۵۶ھ / جنوری ۱۹۴۶ء صفحہ ۱۵-۱۶) " " ۳۔عالم لدنی ، واقف حقیقت ماہر طریقت مولانا صوفی محمد ابراہیم صاحب قصوری نقشبندی مرید خاص میاں شیر محمد صاحب نقشبندی مجددی شرقپوری) مولانا صاحب ایک مایہ ناز سوانح نگار تھے۔آپ کی قیمتی تألیف "خزینہ معرفت" جو میاں شیر محمد صاحب شرقپوری کی سوانح اور ملفوظات پر مشتمل ہے۔مذہبی حلقوں میں بہت مشہور اور مقبول ہے اور تصوف کا گہرا رنگ لئے ہوئے ہے۔یہ کتاب پہلی بار متحدہ ہندوستان میں ربیع الاول ۱۳۵۰ھ مطابق جولائی ۱۹۳۱ء میں جناب مولوی غلام حسین صاحب امام مسجد رانجھے خاں قصور نے شائع کرائی تھی۔اس کتاب کے اب تک متعدد ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔مولانا صاحب نے اس کتاب میں آنحضرت مالی ایم کی اعلیٰ و ارفع شان تحریر فرماتے ہوئے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی کتب سے بھر پور استفادہ آپ کا ذکر کئے بغیر کیا اور مندرجہ ذیل تین تصانیف کے کئی صفحات (چند تصرفات کے ساتھ) لفظاً لفظاً شامل کتاب فرمائے ہیں۔(۱) سرمه چشم آریہ تالیف ۱۸۸ء (۲) آئینہ کمالات اسلام ا یف ۱۸۹۳ء