بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 86 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 86

86 ارتفاع میں اس کے برابر کوئی ایسا وجود نہیں ہے۔سوا اس سلسلہ کے ارتفاع اور انخفاض پر نظر ڈال کر جو ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔روحانی سلسلہ ہے جو اسی کے ہاتھ سے نکلا ہے اور اسی عادت اللہ پر ظہور پذیر ہوا ہے۔خود بلا تامل سمجھ میں آتا ہے کہ وہ بھی بلا تفاوت اسی طرح واقعہ ہے اور یہی ارتفاع اور انخفاض اس میں بھی موجود ہے۔کیونکہ خدا تعالی کے کام یکرنگ اور یکساں ہیں۔اس لئے کہ واحد ہے اور اپنے اصدار و افعال میں وحدت کو دوست رکھتا ہے۔پریشانی اور اختلاف اس کے کاموں میں راہ نہیں پا سکتا اور خود یہ کیا ہی پیارا اور موزون طریق معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کام باقاعدہ اور ایک ترتیب سے مرتب اور ایک سلک میں منسلک ہوں۔اب جب کہ ہم نے ہر طرح سے ثبوت پا کر بلکہ بالبداہت دیکھ کر خدا تعالٰی کے اس پاکر قانون قدرت کو مان لیا کہ اس کے تمام کام کیا روحانی اور کیا جسمانی پریشان اور مختلف طور پر نہیں ہیں۔جن میں یونہی گڑ بڑ پڑا ہوا ہو۔بلکہ ایک حکیمانہ ترتیب سے مرتب اور ایک ایسے با قاعدہ سلسلہ میں بند ہے۔جو ایک ادنیٰ درجہ سے شروع ہو کر انتہائی درجہ تک پہنچتا ہے اور یہی طریق وحدت اسے محبوب بھی ہے۔تو اس قانون قدرت کے ماننے سے ہمیں یہ بھی ماننا پڑا کہ جیسے خدا تعالیٰ نے جمادی سلسلہ میں ایک ذرہ سے لے کر اس وجود اعظم تک یعنی آفتاب تک نوبت پہنچائی ہے۔جو ظاہری کمالات کا جامع ہے۔جس سے بڑھ کر اور کوئی جسم جمادی نہیں۔ایسا ہی روحانی آفتاب بھی کوئی ضرور ہو گا۔جس کا وجود خط مستقیم مثالی میں ارتفاع کے اخیر نقطہ پر واقعہ ہو۔اب تفتیش اس بات کی ہے کہ وہ کامل انسان جس کو روحانی آفتاب سے تعبیر کیا گیا ہے۔وہ کون ہے اور اس کا کیا نام ہے؟ جس کا تصفیہ مجرد عقل سے ہو سکے۔کیونکہ بجز خدا تعالیٰ کے یہ امتیاز کس کو حاصل ہے اور کون مجرد عقل سے ایسا کام کر سکتا ہے۔کہ خدا تعالیٰ کے کروڑہا اور بے شمار بندوں کو نظر کے سامنے رکھ کر اور ان کی روحانی طاقتوں اور قدرتوں کا موازنہ کر کے سب سے بڑے کو الگ کر کے دکھلا دے۔بلاشبہ عقلی طور پر کسی کو اس جگہ دم مارنے کی گنجائش نہیں ہے۔ہاں ایسی بلند و عمیق دریافت کے لئے کتب الهامی