شان مسیح موعود — Page 88
<mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark> اور رسول ہیں یعنی آپ نے مقام نبوت آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور افاضہ رومانیہ کے واسطہ سے حاصل کیا ہے۔مگر فلستی طور پر نبوت یا کمالات کا ملنا براہ راست یعنی مستقل طور پر کمالات محاصل کرتے سے کم درجہ نہیں رکھتا۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام " حمامة البشرى صفحہ ۷ے پر تحریر فرماتے ہیں :- نَكُمْ مِنْ كَمَالِ يُوجَدُ فِي الْأَنْبِيَاءِ بِالْإِمَالَة حَملُ لنا افضل مِنْهُ وَأَولَى بِالطَّرِيقِ الظَّلَيّةِ " رحمامة البشري صفح على شیخ مصری صاحب نے خود اس کا ترجمہ اپنے مضمون میں یہ کیا ہے:۔رکھتے ہی کمالات جو ا<mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark>اء میں اصالتاً پائے جاتے ہیں۔ہم کو اُن سے افضل اور اعلیٰ حاصل ہوتے ہیں مگر خیلی طور پر ) روج اسلام صفحه ۴۵) شیخ صاحب! آپ بھانتے ہیں کہ حمامتہ البشری تب ریلی عقیدہ سے پہلے کی کتاب ہے لہذا اس کی عبارت بالا سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے جو علی کمالات حاصل تھے۔ان کو آپ حضرت عیسی علیہ الست نام کو اصالتا ملنے والے کمالات سے ضرور افضل ہی سمجھتے تھے تبھی تو آپ اس زمانہ میں ان پر جھوئی فضیلت کے قائل تھے جو غیر <mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark> کو <mark><mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark></mark> پر موسکتی ہے اور جوئی فضیلت کے معنی جزئی طور پیر افضل ہوتا ہی ہیں بھلا بھی جب فضیلت کا کسی کے مقابلہ میں ذکر کیا