شان مسیح موعود — Page 75
کے جواب سے ظاہر ہے کہ آپ نے اپنے آپ کو <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> سمجھ لینے پر ہی حضرت عیسی علیہ اسلام سے اپنی تمام شان میں افضل ہونے کا عقیدہ اختیار فرمایا ہے پس ماحصل اس بحث کا یہ ہوا کہ حضرت اقدس کے ماحصل بحث متعلق شیخ مصری صاحب کے اس نظریہ کو بطور تنزل تسلیم کر لینے کی صورت میں بھی کہ تبدیلی اس <mark>امر</mark> کی ہوئی ہے کہ پہلے حضرت اقدس اپنے آپ کو حضرت عیسی علیہ اسلام سے افضل <mark>نہی</mark>ں کہتے تھے اور بعد میں افضل کہنے لگے۔بالآخر حضرت اقدس کی جوابی تحریر پر غور کرنے سے ثابت یہی ہوتا ہے کہ فضیلت کے عقیدہ میں تبدیلی در اصل نبوت کے عقیدہ میں تبدیلی کی فرع ہے۔وَعَدَ ا هُوَ الْمَرَامِ یہ جواب ہم نے شیخ صاحب کی اس بات کو فرض کر کے دیا ہے کہ تبدیلی پہلے فضل نہ کہنے اور بعد میں افضل کہتے ہیں ہوئی ہے۔ورنہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اس جگہ تبدیلی حضرت صل حقیقت عیسی علیات سلام سے پہلے عقیدہ میں افضل نہ کہنے اور بعد میں افضل کہنے میں <mark>نہی</mark>ں ہوئی بلکہ جوئی طور پر افضل ہونے کے عقیدہ کو ترک کرنے اور اپنی تمام شان میں افضل ہونے کا عقیدہ اختیار کرنے میں ہوئی ہے۔کیونکہ جب " تریاق القلوب" میں حضور نے یہ لکھا تھا۔اس جگہ کسی کو وہم نہ گزر ہے کہ میں نے اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت <mark>مسیح</mark> پر فضیلت دی ہے " تو حضور نے ان الفاظ کے ذریعہ حضرت <mark>مسیح</mark> علیہ السلام پر صرف اپنی افضلیت