شان مسیح موعود — Page 73
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ <mark>تبدیلی</mark> پہلے افضل نہ کہنے اور بعد میں افضل کہنے میں ہوئی ہے تو حضرت اقدس کے جواب سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے افضل نہ کہنے کی علت اپنے آپ کو حضرت میسج علیہ السلام کے بالمقابل <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> نہ سمجھنا تھا اور بعد میں افضل کہنے کی علت حضر میسیح علیہ السلام کے بالمقابل وحی الہی سے صریح طور پر <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> کا خطاب پانے اور پوری شان <mark>نبوت</mark> رکھنے کا انکشاف تھا۔شیخ مصری صاحب کو اس جگہ افغانستان کے بادشاہ اور وائسرائے کی مثال کوئی فائدہ نہیں دے سکتی کیونکہ وائسرائے بادشاہ نہیں ہوتا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے آخری خلیفہ (نائب بھی ہیں۔اور حضرت علی نے علیہ اسلام کے بالمقابل ستان نیویت رکھنے کی وجہ سے <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> بھی ہیں۔ہم لوگ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے خاتم ا<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>ستین ہونے کی وجہ سے آپ کو حقیقتہ رُوحانی شہنشاہ کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہیں جن کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ الت نام اُمت محمدیہ کے لئے ایک روحانی بادشاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔وائسرائے تو بادشاہ نہیں ہوتا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ اسلام تحریر فرماتے ہیں :- " میں <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> اور رسول ہوں۔یعنی باعتبار طلبیت کا ملہ وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی <mark>نبوت</mark> کا کامل انعکاس ہے" ) نزول مسیح صفحه ۳) پس وائسرائے کی مثال اس جگہ منطبق نہیں ہو سکتی کیونکہ حضر القدس