شان مسیح موعود — Page 234
کردم ۲۳ اس عبارت میں حضرت اقدس <mark>محدث</mark> کے نام سے پکارا بھانے کو رد کرتے ہیں اور اس سے انکار کرتے ہیں اور <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کے نام سے پکارا جانا از روئے آیت قرآنیہ و نعت عربی ضروری سمجھتے ہیں۔پس مصری <mark>صاحب</mark> کا بابو شاہدین <mark>صاحب</mark> کے خط سے جس میں <mark>محدث</mark>یت کا کوئی ذکر نہیں بلکہ <mark>صرف</mark> یروزی <mark>نبوت</mark> کا ذکر ہے اس کے حضرت اقدس کے حکم سے شائع کئے جانے پر یہ نتیجہ نکالنا کہ ایک <mark>غلطی</mark> کا ازالہ" لکھنے کے وقت حضور نے اپنی <mark>نبوت</mark> سے <mark>محدث</mark>یت ہی مراد لی ہے محض ایک وہم ہے جو مندرجہ بالا عبارت النص کے صریح خلاف ہے جس میں حضور نے <mark>محدث</mark> کے نام سے پکارا جانے کو درست قرار نہیں دیا اور از روئے قرآن ولعت عربی آپ کا <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کے ہم سے پکارا جاتا ہی ضروری سمجھا ہے۔رہی یہ بات کہ شیخ <mark>صاحب</mark> نے یہ لکھا ہے کہ اسلامی اصطلاح میں <mark>غلطی</mark> کے ازالہ کے وقت آپ نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔سو ان کی یہ بات بھی درست نہیں کیونکہ ایک <mark>غلطی</mark> کا ازالہ کے حاشیہ میں حضور نے صاف لکھا ہے :۔" ضرور یاد رکھو کہ اس امت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> اور صدیق پا چکے۔پس منجملہ ان انعامات کے وہ بیوتیں اور پیش گوئیاں ہیں جن کے رو سے ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء علیہم السلام نہی کہلاتے یہ ہے اس عبارت میں صاف بتا دیا گیا ہے کہ ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء سابقین بھی شریعیت یا احکام جدیدہ لانے کی وجہ سے یا خیر امتی ہونے کی وجہ سے نہی نہیں کہلائے۔