شان مسیح موعود — Page 20
تعالے کی وحی بارش کی طرح میر سے پر نازل ہوئی۔اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> کا خطاب مجھے دیا گیا۔مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> اور ایک پہلو سے اُمتی " اس حوالہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت <mark>مسیح</mark> موعود نے اپنے آپ کو میسی سے افضل اس لئے <mark>نہی</mark>ں قرار دیا کہ آپ کو معلوم ہو گیا تھا کہ غیر <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> ، <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> سے افضل ہو سکتا ہے بلکہ اس لئے کہ آپ کو <mark>اللہ</mark> تعالے کی دھی نے صریح طور پر <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> کا خطاب دیا اور وہ بارش کی طرح آپ پر نازل ہوئی۔اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ آپ نے " تریاق القلوب" <mark>والے</mark> عقیدہ کو بدل دیا۔کیونکہ " تریاق القلوب " میں آپ نے لکھا تھا کہ میں صرف جزوی فضیلت رکھتا ہوں۔اور بعد میں فرمایا۔کہ میں تمام شان میں اس سے بڑھ کر ہوں “ (حقیقة النية - صفحه ۱۵ و ۱۹) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح ال<mark>ثانی</mark> کی تحریہ سے ہی شیخ مقصری صاحب نے اپنا پیش کردہ خیال تو لے لیا مگر حضرت خلیفہ اسیح ال<mark>ثانی</mark> ایدہ <mark>اللہ</mark> تعالی نے اس کی جو تم دید فرمائی ہے اس کو محفوظ <mark>نہی</mark>ں رکھا بلکہ اس غلط خیال کو ہی اپنے مضمون میں رنگ بھر کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔نظریات مختلفہ مولوی <mark><mark>محمد</mark></mark>علی صاحب مرحوم اور شیخ مصری صاحب کے نظریوں میں ہو تضاد پایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ دونوں صاحب اس بات میں تو متفق ہیں کہ حضرت اقدس <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> کہلانے کے