شان مسیح موعود — Page 180
FA۔شکل کی ہوئی اور ان ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء میں سے ہر <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کی حیثیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بالمقابل جزو کی ہوئی۔اب کیا شیخ <mark>صاحب</mark> ان سب ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بالمقابل مجاز مرسل کے طور پر بنی قرار دینے کے لئے تیار ہیں ؟ کیونکہ ان میں اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم میں گل اور جزو کی نسبت انہیں مسلم ہے۔اگر نہیں تو کیوں ؟ <mark>محدث</mark>ین پر جزوی <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کا اطلاق محمد میں کی <mark>نبوت</mark> پر کہ جس کی محبت کا ملہ کے مقابلہ میں طبیعی <mark>نبوت</mark> نا قصہ ہی ہوتی ہے اس <mark>محدث</mark>، کامل نظلی <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کے مقابلہ میں بھی جو وہی حیثیت رکھتا ہے اسی لئے <mark>کس</mark>ی <mark>محدث</mark> کو امت محمدیہ میں مقدرا نے <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کے نام سے نہیں پکارا۔اور سیح موعود علیہ اسلام کو جو کامل ظلی <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> ہیں ، انہی کے نام سے پکارا ہے۔پس خلقی <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کا لفظ اگر <mark>محدث</mark> کے لئے استعمال کیا جائے تو مسیح موعود کی ظلی <mark>نبوت</mark> کا ملہ کے مقابلہ میں محمد پر <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کا اطلاق بطور مجاز مرسل کے ہوگا اور <mark>محدث</mark> کے مقابلہ میں مسیح موعود کے لئے <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کا اطلاق کا مل ظلی <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> ہونے کی وجہ سے بطور حقیقت کے ہوگا۔میرا یہ استدلال شیخ <mark>صاحب</mark> کے اگلے بیان کے عین مطابق ہے۔مصری <mark>صاحب</mark> کے نز دیکھتے صریح طور پر کی تشریح این ایرانی لکھتے ہیں:۔اب ذیل میں لفظ " صریح طور پر " کی تشریح بھی عرض کو دی جاتی