شان مسیح موعود — Page 123
۱۲۳ اور ایک پہلو سے استی۔وہی سے موجود کہلائے گا " (حاشیہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۰۱) پھر حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۸ پر تقریر فرماتے ہیں :- بھر اس (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کے کوئی <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> <mark>صاحب</mark> خاتم نہیں۔ایک وہی ہے جس کی مدر سے ایسی <mark>نبوت</mark> بھی میں سکتی ہے جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے " اور اسی جگہ معاشیہ میں یہ تحریر فرماتے ہیں :- اس امت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی برکت اللہ سے ہزار ہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> بھی " د شقیقة الوحی حاشیه مشهد در خود جناب مصری <mark>صاحب</mark> کو اپنے اس مضمون میں مسلم ہے کہ حضرت اقدس کو <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کا نام <mark>نبوت</mark> کی صفت کامل طور پر حاصل کرنے کی وجہ سے ملا ہے اور یہ بھی انہیں مسلم ہے کہ حضرت اقدس سے پہلے امت محمدیہ کے اولیاء اللہ کو <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کا نام اس لئے نہیں ملا کہ انہیں صنفت <mark>نبوت</mark> کامل طور پر حاصل نہ تھی۔چنانچہ وہ تحریر کرتے ہیں :۔لانی کا نام جو اور <mark>کس</mark>ی ولی کو امت محمدیہ میں۔ناقل ) نہیں دیا گیا اور حضرت اقدس کو ہی دیا گیا۔وہ (حضرت علیمی علی است سلام سے، ناقل حوثات نام کی وجہ سے بھی دیا گیا۔کیونکہ نام <mark>کس</mark>ی صفت کے کمال پر ہی بیا کو ملتا ہے۔روح اسلام ، صفحہ ۳۳) ز با