شمائل النبی ؐ

Page 1 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 1

شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 1 ليم العالي بَابُ مَا جَاءَ فِي خَلْقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان 1 1 أَخْبَرَنَا أَبُو رَجَاءِ قُتَيْبَةُ ابْنُ سَعِيدٍ عَنْ 1 ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے روایت ہے کہ انہوں نے مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ رَبِيعَةَ بنِ أَبِي حضرت انس بن مالک کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ أَنَّهُ سَمِعَهُ رسول اللہ ﷺ نہ نمایاں طور پر بہت زیادہ لمبے تھے نہ ہی يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پسته قامت، نہ تو بالکل سفید 2 تھے اور نہ گندم گوں ، اور لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ، وَلَا (آپ کے بال نہ زیادہ گھنگریالے تھے نہ بالکل ) بِالابْيضِ الأَمْهَقِ وَلَا بِالْآدَمِ، وَلَا بِالْجَعْدِ سید ھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کے سر پر الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبُطِ بَعَثَهُ اللهُ تَعَالَى عَلَى رَأْسِ مبعوث فرمایا۔آپ نے مکہ میں دس سال قیام فرمایا اور اَرْبَعِينَ سَنَةً فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ مدینہ میں دس سال۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو ساٹھ سال کے وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَسِيْنَ فَتَوَفَّاهُ اللهُ تَعَالَى عَلَی سر پر وفات دی۔اس وقت آپ کے سر اور ریش مبارک رأس سِيِّينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِہ میں میں بال بھی سفید نہ تھے۔رَأْسِ عِشْرُونَ شَعُرَةً بَيْضَاءَ۔:2 حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ قَالَ :2 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ التَّقَفِيُّ عَنْ حُمَيْدِ عَنْ أَنَسِ رسول الله له میانہ قد کے تھے۔نہ تو آپ بہت لمبے تھے نہ 1- خلق ظاہری پیدائش کو کہتے ہیں اور خلق روحانی پیدائش کو۔خلق میں ظاہری اعضاء اور لیہ وغیرہ آتا ہے اور خلق میں اخلاق فاضلہ۔2- الامهى: الْأَبْيَضُ شَدِيدُ الْبَيَاضِ لَا يُخَالِطُهُ حُمْرَةً (اقرب الموارد تالیف علامہ سعید الخوری الشر تونى اللبنانی ) خوب سفید رنگ جس میں سرخی نہ ملی ہو۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کے بارے میں امام ترندی نے الگ باب باندھا ہے جو حدیث نمبر 362 سے شروع ہورہا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ثقہ اور پختہ روایات کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے 63 سال عمر پائی اور دعوی نبوت کے بعد مکہ میں تیرہ سال قیام فرمایا۔اس جگہ معلوم ہوتا ہے کہ راوی نے کسر بیان نہیں کی اور بطور راؤنڈ نگر Round Figure) دس سال کا ذکر کر دیا، یا پھر علانیہ دعوی سے قبل تین سال کا عرصہ شمار نہیں کیا۔