شمائل النبی ؐ — Page 76
شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 76 194: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ :194: حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ جب لوگ موسم أَنَسِ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا مَعْنٌ کے پہلے پھل کو دیکھتے تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لا کر حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَن پیش کرتے اور جب رسول اللہ ﷺ اسے لیتے تو یہ دعا أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا کرتے : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي الْمَارِنَا وَبَارِكُ لَنَا اَوَّلَ القَمَرِجَاءُ وُا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ فِي مَدِينَتِنَا وَبَارِک لَنَا فِي صَاعِنَا وَفِي مُدَنَا اللَّهُمَّ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيْلُكَ وَ نَبِيُّكَ وَإِنِّي عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي الْمَارِنَا عَبْدُكَ وَ نَبِيُّكَ وَ إِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ وَإِنِّي وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِ يُنَتِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا اَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلٍ مَا دَعَاكَ بِهِ لِمَكَّةَ وَمِثْلِهِ وَفِي مُدِّنَا اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيْلَكَ مَعَهُ : اے اللہ ! ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما اور وَ نَبِيُّكَ وَإِنِّي عَبْدُكَ وَ نَبيُّكَ وَإِنَّهُ ہمارے شہر میں برکت نازل کر۔اور ہمارے صاع اور مد دَعَاكَ لِمَكَّةَ وَإِنِّي أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا میں بھی برکت ڈال اے اللہ ! ابراہیم تیرا بندہ اور تیرا دوست دَعَاكَ بِهِ لِمَكَّةَ وَمِثْلِهِ مَعَهُ قَالَ ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ اور تیرا نبی تھا۔میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں اور اس نے مکہ کے لئے تیرے حضور دعا کی تھی اور میں مدینہ کے لئے تیرے حضور ویسی ہی دعا کرتا ہوں جیسی انہوں نے تیرے حضور وَلِيدِ يَرَاهُ فَيُعْطِيهِ ذَلِكَ القَمَرَ۔مکے کے لئے کی تھی اور اتنی ہی مزید اس جیسی اور پھر جو سب سے چھوٹا بچہ دیکھتے اسے بلاتے اور وہ پھل اسے عطا فرماتے۔195: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدِ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا 195 حضرت ربیع بنت معوذ بن علماء کہتی ہیں کہ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِعَنُ مُحَمَّدِ بنِ إِسْحَاقَ عَنْ حضرت معاذ بن عفراء نے مجھے ایک تازہ کھجوروں کی طشتری ا صارع اور مدمشہور پیمانوں کے نام ہیں۔مد، صاع سے چھونا ہوتا ہے۔جو آدھ سیر سے کچھ زائد وزن کا ہوتا ہے۔اہل حجاز اور اہل عراق کے پیمانوں میں فرق تھا۔امام شافعی کے نزدیک اہل حجاز کا مد ایک رطل اور اہل عراق کا مدتہائی رطل کا تھا۔امام ابوحنیفہ کے نزد یک مددو 2 رطل کا تھا۔ایک صاع میں چار د ہوتے ہیں کہتے ہیں یہ نام اس لیے پڑا کہ ایک شخص اپنا ہاتھ پھیلا کر جتنا کھانا ہاتھوں میں تھام سکتا ہے وہ قریبا مد کے برابر بنتا ہے (نہایہ)۔منجد کے مطابق صاع دوسیر چودہ چھٹانک چار تولہ کے برابر ہوتا ہے۔رطل قریبا نصف سیر ہوتا ہے۔