شمائل النبی ؐ — Page 43
شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 43 بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ مِغْفَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خو د کا بیان ☆ 107: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مَالِكُ :107: حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی کریم ابْنُ أَنَسٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے جبکہ آپ نے خود پہنا ہوا تھا۔اَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ آپ سے کہا گیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لڑکا ہوا وَعَلَيْهِ مِغْفَرٌ فَقِيْلَ لَهُ هَذَا ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ ہے۔آپ نے فرمایا اسے قتل کر دو۔بِاسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ اقْتُلُوهُ۔108: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ 108: حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ سال رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے۔آپ نے سر ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ مبارک پر خود پہنی ہوئی تھی۔جب آپ نے وہ اُتاری تو ایک صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْح شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کی کہ ابن خطل کعبہ کے وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ قَالَ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ پردوں کے ساتھ لڑکا ہوا ہے۔آپ نے فرمایا: اسے قتل کر دو۔رَجُلٌ فَقَالَ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلَّقٌ بِاسْتَارِ الْكَعْبَةِ ابن شهاب بیان کرتے ہیں کہ یہ بات مجھ تک پہنچی کہ اس روز فَقَالَ اقْتُلُوهُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَبَلَغَنِي أَنَّ رسول اللہ ﷺ نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا۔رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنُ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا۔فتح مکہ کے موقعہ پر حضور ﷺ نے عام معافی کا اعلان فرما دیا تھا سوائے ان معدودے چند مجرموں کے جو لائق سزا تھے۔انہیں قتل کر دینے کا حکم فرمایا۔ان میں سے ایک ابن خطل تھا جو علاوہ دیگر جرائم کے ایک انصاری مسلمان کے ناحق قتل کے باعث بطور قصاص قتل کیا گیا۔(سیرت الحلبیہ ) اس کے کعبہ کے پردوں سے لٹکنے کا فعل بتاتا ہے کہ وہ مکہ فتح ہونے کے باوجود surrender کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔