شمائل النبی ؐ — Page 26
26 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم :56: حَدَّثَنَا عَبُدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاج :56 حضرت اسماء بنت یزید سے روایت ہے انہوں نے کہا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بُنُ هِشَامٍ وَحَدَّثَنِي أَبِي عَنْ بُدَيْلٍ که رسول الله ﷺ کی قمیص کی آستین کلائی اور ہاتھ کے يَعْنِي ابْنَ صُلَيْبِ الْعُقَيْلِي عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوشَبِ جوڑ تک ہوتی تھی۔عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ كَانَ كُمُ قَمِيصِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الرُّسُغِ۔:57 : حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارِ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ :57 : معاويه بن قُرۃ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ عَنْ عُرْوَةَ بنِ انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں قبیلہ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُشَيْرٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ مزینہ کے کچھ لوگوں کے ساتھ حاضر ہوا تا کہ ہم آپ کی قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بیعت کریں اور آپ کی قمیص کھلی ہوئی تھی یا یہ کہا کہ قمیص کے فِي رَهْطٍ مِنْ مُزَيْنَةَ لِتُبَايِعَهُ وَإِنَّ قَمِيصَهُ لَمُطْلَقُ بٹن کھلے ہوئے تھے۔تو میں نے اپنا ہاتھ آپ کی قمیص کے اَوْ قَالَ زِرُّ قَمِيصِهِ مُطْلَقٌ قَالَ فَادْخَلْتُ يَدِي فِي گریبان میں ڈالا اور مہر کو چھوا۔جَيْبِ قَمِيصِهِ فَمَسَسُتُ الْخَاتَمَ۔:58: حَدَّثَنَا عَبُدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ :58 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی کر یم ہے * الْفَضْلِ اَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حَبِیبِ بنِ حضرت اسامہ بن زید کا سہارا لئے ہوئے باہر تشریف الشَّهِيدِ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ أَنَّ لائے۔آپ نے قطری چادر اوڑھی ہوئی تھی۔آپ نے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَهُوَيَتَّكِی وہ کندھوں پر ڈالی ہوئی تھی۔پھر آپ نے صحابہ کو عَلَى أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَلَيْهِ ثَوْبٌ قِطري قَدْ نماز پڑھائی۔عبداللہ بن حمید نے کہا کہ محمد بن فضل نے بتایا کہ مجھ سے یحیی بن معین نے اس حدیث کے بارے میں تَوَشَّحَ بِهِ فَصَلَّى بِهِمْ۔وَقَالَ عَبْدُ بُنُ حُمَيْدٍ پوچھا جونہی وہ میرے پاس بیٹھے تو میں حدیث سنانے لگا کہ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ سَأَلَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِيْنِ قطری چادر کی ایک قسم کا نام ہے جس میں سرخ دھاریاں ہوتی ہیں اور اس میں نقش بھی ہوتے ہیں اور کپڑا اذ را کھردرا ہوتا ہے۔لیکن بعض شارحین کے مطابق بحرین کی طرف سے آنے والے عمدہ جوڑوں کو قطری کہتے ہیں۔ازہری کے مطابق بحرین میں ایک بستی تھی جس کا نام قطر تھا۔وہاں سے یہ چادر میں آتی تھیں۔( نہا یہ ابن اثیر )