شمائل النبی ؐ

Page 132 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 132

132 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَتَّى رکوع کیا ( اتنا لمبا ) کہ گویا رکوع سے سر نہیں اُٹھا ئیں لَمْ يَكُدْ يَرْكَعُ ثُمَّ رَكَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ثُمَّ گے۔پھر آپ نے سراٹھایا ( اور اتنا لمبا قیام کیا ) گویا آپ رَفَعَ رَأْسَهُ فَلَمْ يَكَدْ أَنْ يَسْجُدَ ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ سجدہ نہیں کریں گے پھر (انالمبا) سجدہ کیا کہ گویا سجدے سے يَكَدْ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَه ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَلَمْ يَكَدُ اَنْ سر نہیں اُٹھا ئیں گے ، پھر سر اٹھایا اور (اتنی دیر بیٹھے کہ ) گویا يَسْجُدَ ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ يَكَدْ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَه که (دوسرا) سجدہ نہیں کریں گے۔پھر آپ نے ( اتنا لمبا ) فَجَعَلَ يَنْفُخُ وَيَبْكِي وَيَقُولُ رَبِّ اَلَمْ تَعِدُنِي أَن سجدہ کیا کہ گویا ( سجدے سے ) سر نہیں اُٹھائیں گے۔نماز لَّا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمُ رَبِّ أَلَمْ تَعِدُنِي أَن لَّا میں ) شدت گریہ سے ) آپ کی سانس کی آواز آ رہی تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُكَ تھی۔آپ روتے ہوئے کہ رہے تھے اے میرے رب ! کیا فَلَمَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ انْجَلَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا کہ تو انہیں عذاب نہیں دے فَحَمِدَ اللهَ وَاثْنى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ گا جب تک میں ان میں موجود ہوں۔اے میرے رب ! کیا وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنكَسِفَان تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا لِمَوْتِ اَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِنِ انْكَسَفَا فَافْزَعُوا اس حال میں کہ وہ استغفار کرتے ہوں۔اور ہم تجھ سے بخشش إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى۔طلب کرتے ہیں۔جب آپ دو رکعت پڑھ چکے تو سورج صاف اور روشن ہو چکا تھا۔پھر آپ کھڑے ہوئے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور فرمایا۔یقینا سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کے نشانات میں سے دونشان ہیں۔یہ کسی کی موت کی وجہ سے نہیں گہناتے نہ کسی کی پیدائش سے۔جب یہ کہنا جائیں تو ڈرتے ہوئے خدا کا ذکر کرو۔310 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو 310 حضرت ابن عباس سے روایت ہے انہوں نے کہا أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ که رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی کو اٹھایا جو نزع کی حالت عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اَخَذَ رَسُولُ اللهِ میں تھی اُسے گود میں لیا اور اپنے سامنے رکھا۔حضور علہ کی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَةٌ لَهُ تَقْضِي فَاحْتَضَنَهَا آنکھوں کے سامنے ان کا وصال ہو گیا اور حضرت ام ایمن فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَاتَتْ وَهِيَ بَيْنَ يَدَيْهِ چلانے لگیں تو آپ یعنی نبی ﷺ نے فرمایا کیا تو اللہ کے