شمائل النبی ؐ

Page 129 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 129

شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 129 يَفْعَلُ رُبَّمَا أَسَرَّ وَرُبَّمَا جَهَرَ قُلْتُ : اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کا جس نے اس معاملہ میں وسعت عطا فرمائی۔الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةٌ۔303 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ :303 حضرت ام ھائی سے روایت ہے۔انہوں نے فرمایا: حَدَّثَنَا مِسْعَرْعَنْ أَبِي الْعَلَاءِ الْعَبْدِي عَنْ يَحْيَی میں رات کے وقت نبی کریم ﷺ کی تلاوت کی آواز سنا ابنِ جَعْدَةَ عَنْ أَمْ هَانِيُّ قَالَتْ كُنتُ أَسْمَعُ قِرَاءَةَ کرتی تھی جبکہ میں ( اپنے گھر میں ) اپنی چارپائی پر ہوتی النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ وَأَنَا عَلَى تھی۔:304 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ أَبُو دَاوُدَ 304 حضرت عبداللہ بن مغفل کہتے ہیں میں نے فتح مکہ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ کے دن نبی کریم علی کو اوٹنی پر سوار دیکھا جبکہ آپ تلاوت عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُعَفَّلٍ يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ فرما رہے تھے : إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ يَوْمَ الْفَتْحِ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ۔ترجمہ: یقینا ہم نے وَهُوَ يَقْرَأُ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا تجھے کھلی کھلی فتح عطا کی ہے تا کہ اللہ تجھے تیری ہر سابقہ اور لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا ہر آئندہ ہونے والی لغزش بخش دے۔راوی کہتے ہیں کہ تَأَخَّرَ قَالَ فَقَرَأَ وَرَجْعَ قَالَ وَقَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ آپ نے یہ پڑھا اور الفاظ کو لمبا کر کے ادا کیا۔معاویہ بن ? قُرَّةَ لَوْلَا أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيَّ لَا حَذْتُ لَكُمُ قرہ کہتے تھے کہ اگر لوگ اکٹھے نہ ہو جائیں تو میں اس آواز یا في ذَلِكَ الصَّوْتِ أَوْ قَالَ اللَّحْنِ۔لحن میں پڑھ کر سناؤں۔305: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا نُوحُ بنُ :305 قتادہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا قَيْسِ الْحُدَّانِيُّ عَنْ حُسَامِ بنِ مِصَبٍ عَنْ مگر وہ خوش شکل اور خوبصورت آواز والا تھا اور تمہارے قَتَادَةَ قَالَ مَا بَعَث اللهُ نَبِيًّا إِلَّا حَسَنَ الْوَجْهِ نبی سے بھی حسین چہرے والے اور خوبصورت آواز والے حَسَنَ الصَّوْتِ وَكَانَ نَبِيُّكُمْ حَسَنَ الْوَجْهِ ہیں۔آپ عام طرز کے الفاظ کو بہت لمبا کر کے ادا نہیں حَسَنَ الصَّوْتِ وَكَانَ لَا يُرْجِعُ۔کرتے تھے۔1 (الفتح : 2 ، 3) 2 حضور ﷺ نے فتح مکہ کے موقعہ پر آیت إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مبینا ترجمع کر کے پڑھی۔گو یہ حضور کا عام طریق نہیں تھا۔