سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 51

سيرة النبي علي صلى الله 36 جلد 7 سال تک یہ حالات اسی طرح قائم رہے اور مکہ کے مقاطعہ کے فیصلہ میں کوئی کمزوری پیدا نہ ہوئی ۔ قریباً تین سال کے بعد مکہ کے پانچ شریف آدمیوں کے دل میں اس ظلم کے خلاف بغاوت پیدا ہوئی ۔ وہ شعب ابی طالب کے دروازہ پر گئے اور محصورین کو آواز دے کر کہا کہ وہ باہر نکلیں اور کہ وہ اس مقاطعہ کے معاہدہ کو توڑنے کے لئے بالکل تیار ہیں ۔ ابو طالب جو اس لمبے محاصرہ اور فاقوں کی وجہ سے کمزور ہو رہے تھے باہر آئے اور اپنی قوم کو مخاطب کر کے انہیں ملامت کی کہ ان کا یہ لمباظلم کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔ ان پانچ شریف انسانوں کی بغاوت فوراً بجلی کی طرح شہر میں پھیل گئی ۔ فطرت انسانی نے پھر سر اٹھانا شروع کیا۔ نیکی کی روح نے پھر ایک دفعہ سانس لیا اور مکہ کے لوگ اس شیطانی معاہدہ کو توڑنے پر مجبور ہو گئے 34 ۔ معاہدہ تو ختم ہو گیا مگر تین سالہ فاقوں نے اپنا اثر دکھانا شروع کیا۔ تھوڑے ہی دنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفا شعار بیوی حضرت خدیجہ اس مقاطعہ کے دنوں کی تکلیفوں کے نتیجہ میں فوت ہو گئیں اور اس کے ایک مہینہ بعد ابو طالب بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ رض حضرت خدیجہ اور ابوطالب کی وفات کے بعد تبلیغ محمدرسول الله صلى الله میں رکاوٹیں اور آنحضرت کا سفر طائف اور آپ کے صحابہ علی اب ابو طالب کے رض مصالحانہ اثر سے محروم ہو گئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی کی ساتھی حضرت خدیجہ بھی آپ سے جدا ہو گئیں ۔ ان دونوں کی وفات سے طبعی طور پر اُن لوگوں کی ہمدردیاں بھی آپ سے اور آپ کے صحابہؓ سے کم ہوگئیں جو ان کے تعلقات کی وجہ سے ظالموں کو ظلم سے روکتے رہتے تھے ۔ ابو طالب کی وفات کے تازہ صدمہ کی سے اور ابوطالب کی وصیت کی وجہ سے چند دن آپ کے شدید دشمن اور ابو طالب کے چھوٹے بھائی ابولہب نے آپ کا ساتھ دیا۔ لیکن جب مکہ والوں نے اس کے جذبات کو یہ کہہ کر ابھارا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تو تمام اُن لوگوں کو جو توحید الہی وجہ سے