سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 50
سيرة ة النبي علي صلى الله 35 جلد 7 فرمایا عمر ! کس ارادہ سے آئے ہو؟ عمرؓ نے کہا يَا رَسُولَ الله ! میں مسلمان ہونے آیا ہوں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر بلند آواز سے اللهُ أَكْبَر کہا یعنی اللہ سب سے بڑا ہے اور آپ کے سب ساتھیوں نے بھی یہی الفاظ زور سے دہرائے یہاں تک کہ مکہ کی پہاڑیاں گونج اٹھیں 33 اور تھوڑی ہی دیر میں یہ خبر مکہ میں آگ کی طرح پھیل گئی اور عمر سے بھی وہی سختی کا برتاؤ ہونا شروع ہو گیا جو پہلے دوسرے صحابہ سے ہوتا تھا۔ مگر وہی عمر جو پہلے مارنے اور قتل کرنے میں مزہ اٹھایا کرتا تھا اب مار کھانے اور پیٹے جانے میں لذت حاصل کرنے لگا۔ چنانچہ خود عمر کا بیان ہے کہ ایمان لانے کے بعد میں مکہ کی گلیوں میں ماریں ہی کھاتا رہتا تھا۔ مسلمانوں سے بائیکاٹ غرض ظلم اب حد سے باہر ہوتے چلے جارہے تھے۔ کچھ لوگ مکہ چھوڑ کر چلے گئے تھے اور جو باقی تھے وہ پہلے سے بھی زیادہ ظلموں کا شکار ہونے لگ گئے تھے مگر ظالموں کے دل ابھی ٹھنڈے نہ ہوئے تھے، جب انہوں نے دیکھا کہ ہمارے گزشتہ ظلموں سے مسلمانوں کے دل نہیں ڈرے، ان کے ایمانوں میں تزلزل واقع نہیں ہوا بلکہ وہ خدائے واحد کی پرستش میں اور بھی بڑھتے چلے جاتے ہیں اور بتوں سے ان کی نفرت ترقی ہی کرتی چلی جاتی ہے تو انہوں نے پھر ایک مجلس شوری قائم کی اور یہ فیصلہ کر دیا کہ مسلمانوں کے ساتھ کلی طور پر مقاطعہ کر دیا جائے ۔ کوئی شخص سودا اُن کے پاس فروخت نہ کرے۔ کوئی شخص ان کے ساتھ لین دین نہ کرے۔ اُس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند متبعین اور ان کے بیوی بچوں سمیت اور اپنے چند ایسے رشتہ داروں کے ساتھ جو باوجود اسلام نہ لانے کے آپ کا پ کا ساتھ چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے ایک الگ مقام میں جو ابو طالب کی ملکیت تھا پناہ لینے پر مجبور ہوئے ۔ جن لوگوں کے پاس نہ روپیہ تھا نہ سامان نہ ذخائر تھے جن کی مدد سے وہ جیتے وہ اس تنگی کے زمانہ میں جن حالات میں سے گزرے ہوں گے ان کا اندازہ لگانا دوسرے انسان کے لئے ممکن نہیں ۔ قریباً تین