صحیح مسلم (جلد پانز دہم) — Page 217
صحیح مسلم جلد پانزدهم 217 كتاب الزهد والرقائق رَحْلًا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا وَسَاقَ وہ ملتا اسے لوٹا دیتا۔وہ (حضرت ابو بکر) کہتے ہیں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاحَ فَرَسُهُ فِي الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ زُهَيْرٍ عَنْ أَبِي اس نے ہم سے وفا کی۔إِسْحَقَ و قَالَ فِي حَدِيثه مِنْ رِوَايَة عُثْمَانَ ایک روایت میں (جَاءَ أَبُو بَكْرِ الصِّدِيقِ إِلَى أَبِي بْنِ عُمَرَ فَلَمَّا دَنَا دَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ فِي مَنْزِلِهِ کی بجاۓ) إِشْتَرَى أَبُو بَكْرٍ مِنْ أَبِي رَجُلًا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِرْهَما کے الفاظ ہیں مگر اس میں یہ بھی ہے کہ جب وہ قریب ہوا تو رسول اللہ اللہ الْأَرْضِ إِلَى بَطْنِهِ وَوَثَبَ عَنْهُ وَقَالَ يَا نے اسے بددعا دی تو اس کا گھوڑا پیٹ تک دھنس گیا مُحَمَّدُ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ هَذَا عَمَلُكَ فَادْعُ اور وہ اس سے کود گیا اور کہا کہ اے محمد ! مجھے پتہ چل گیا اللَّهَ أَنْ يُعَلِّصَنِي مِمَّا أَنَا فِيهِ وَلَكَ عَلَيَّ ہے کہ یہ آپ کا کام ہے، آپ میرے لئے اللہ سے لَأَعَمِّيَنَّ عَلَى مَنْ وَرَائِي وَهَذِهِ كِنَانَتِي دعا کریں کہ وہ مجھے اس حالت سے جس میں میں فَخُذْ سَهْمًا مِنْهَا فَإِنَّكَ سَتَمُرُّ عَلَى إِبلي ہوں نجات دے اور یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں وَغِلْمَانِي بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا فَخُذْ مِنْهَا اپنے پچھلوں پر اس بات کو اندھیرے میں رکھوں گا یہ حَاجَتَكَ قَالَ لَا حَاجَةً لِي فِي إِبلكَ فَقَدَمْنَا ميرا ترکش ہے اس میں سے ایک تیرلیس آپ فلاں فلاں جگہ سے میرے اونٹوں اور غلاموں کے پاس الْمَدِينَةَ لَيْلًا فَتَنَازَعُوا أَيُّهُمْ يَنْزِلُ عَلَيْهِ سے گزریں گے جو آپ کی ضرورت ہو وہ لے لینا۔رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ آپ نے فرمایا مجھے تمہارے اونٹوں کی ضرورت نہیں أُنْزِلُ عَلَى بَنِي النَّجَارِ أَحْوَالِ عَبْدِ ہم رات کومدینہ آئے تو لوگ آپس میں بحث کرنے لگے الْمُطَّلِبِ أُكْرِمُهُمْ بِذَلِكَ فَصَعِدَ الرِّجَالُ کہ ان میں سے کون ہے جس کے ہاں رسول اللہ علی ہے وَالنِّسَاءُ فَوْقَ الْبُيُوتِ وَتَفَرَّقَ الْعِلْمَانُ قیام فرما ئیں گے۔تو آپ نے فرمایا کہ میں عبد المطلب وَالْحَدَمُ فِي الطُّرُقِ يُنَادُونَ يَا مُحَمَّدُ يَا کے نہال بنی نجار کے ہاں قیام کروں گا۔اسی طرح رَسُولَ اللهِ يَا مُحَمَّدُ يَا رَسُولَ اللهِ میں ان کا احترام کروں گا۔مرد اور عورتیں گھروں کے اوپر چڑھ گئے اور بچے اور خادم راستوں میں پھیل گئے وہ یا محمد یا رسول اللہ یا محمد یارسول اللہ ! پکارتے تھے۔[7522,7521]