صحیح مسلم (جلد پانز دہم) — Page 160
160 کتاب الزهد والرقائق صحیح مسلم جلد پانزدهم 5251{10} حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوحَ حَدَّثَنَا :5251 حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں هَمَّامٌ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبي نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ بنی اسرائیل طَلْحَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ میں تین شخص تھے ایک مبروص تھا ایک گنجا اور ایک أَنْ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى نابینا۔اللہ نے ارادہ کیا کہ ان کی آزمائش کرے۔اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ ثَلَاثَةٌ فِي بَنِي اس نے ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجاوہ مبروص کے إِسْرَائِيلَ أَبْرَصَ وَأَقْرَعَ وَأَعْمَى فَأَرَادَ اللَّهُ پاس آیا اور پوچھا کہ تجھے کیا چیز سب سے زیادہ پسند أَنْ يَبْتَلَيَهُمْ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَلَكًا فَأَتَى الْأَبْرَصَ ہے ؟ اس نے کہا کہ خوبصورت رنگ ، خوبصورت جلد فَقَالَ أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ لَوْنُ حَسَنُ اور یہ مجھ سے دور ہو جائے جس کی وجہ سے لوگ مجھ وَجِلْدٌ حَسَنُ وَيَذْهَبُ عَنِّي الذي قَدْ سے کراہت کرتے ہیں۔فرمایا اس (فرشتہ) نے اس قَذِرَنِي النَّاسُ قَالَ فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے وہ بیماری جاتی رہی اور اسے قَدَرُهُ وَأَعْطِيَ لَوْنَا حَسَنًا وَجلْدًا حَسَنًا قَالَ خوبصورت رنگ اور خوبصورت جلد عطا کی گئی۔اس فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ الْإِبِلُ أَوْ قَالَ (فرشتہ) نے کہا کہ کونسا مال تجھے پسند ہے؟ اس نے الْبَقَرُ شَكَ إِسْحَقُ إِلَّا أَنَّ الْأَبْرَصَ أَوِ الْأَقْرَعَ کیا اونٹ یا کہا گائے۔راوی اسحاق کو اس بارہ میں قَالَ أَحَدُهُمَا الْإِبِلُ وَقَالَ الْآخَرُ الْبَقَرُ قَالَ شک ہے کہ مبروص یا گنجے میں سے کسی ایک نے فَأَعْطِيَ نَاقَةٌ عُشَرَاءَ فَقَالَ بَارَكَ اللهُ لَكَ اونٹ کہا تھا اور دوسرے نے گائے۔فرمایا اسے دس فِيهَا قَالَ فَأَتَى الْأَقْرَعَ فَقَالَ أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ ماہ کی کا بھن اونٹنی دی گئی اور کہا کہ اللہ تجھے اس میں إِلَيْكَ قَالَ شَعَرٌ حَسَنٌ وَيَذْهَبُ عَنِّي هَذَا برکت دے۔فرمایا پھر وہ گنجے کے پاس آیا اور کہا تجھے الَّذِي قَدْ قَدَرَنِي النَّاسُ قَالَ فَمَسَحَهُ سب سے زیادہ کیا اچھا لگتا ہے؟ اس نے کہا فَذَهَبَ عَنْهُ وَأَعْطِيَ شَعَرًا حَسَنًا قَالَ فَأَيُّ خوبصورت بال اور یہ مجھ سے دور ہو جائے جس کی وجہ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ الْبَقَرُ فَأَعْطِيَ بَقَرَةً سے لوگوں کو مجھ سے کراہت آتی ہے۔فرمایا اس حاملًا فَقَالَ بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهَا قَالَ فَأَتَى (فرشتہ) نے اس پر ہاتھ پھیرا اور اس سے وہ الْأَعْمَى فَقَالَ أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ أَنْ ( بیماری ) جاتی رہی اور اسے خوبصورت بال عطا کئے 5251 : تخریج بخاری کتاب احاديث الانبياء باب حديث ابرص و اعمی واقرع فی بنی اسرائیل 3464 کتاب الایمان والنذور باب لا يقول ماشاء الله وشئت 6653