صحیح مسلم (جلد پانز دہم) — Page 130
صحیح مسلم جلد پانزدهم 130 كتاب الفتن واشراط الساعة مَا بَيْنَ رَقَبَتِهِ إِلَى تَرْقُوتِهِ تُحَاسًا فَلَا يَسْتَطِيعُ بصیرت حاصل ہوگئی ہے۔فرمایا پھر وہ (مومن) کہے إِلَيْهِ سَبِيلًا قَالَ فَيَأْخُذُ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ گا اے لوگو! میرے بعد یہ کسی اور سے ایسا نہ کر سکے فَيَقْذِفُ بِهِ فَيَحْسِبُ النَّاسُ أَنَّمَا قَدَفَهُ إِلَى گا۔فرمایا پھر وہ (دجال ) اسے ذبح کرنے کے لئے النَّارِ وَإِنَّمَا أُلْقِيَ فِي الْجَنَّةِ فَقَالَ رَسُولُ پکڑے گا۔تو اس کا گلا ہنسلی تک تانبے کا بن جائے اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا أَعْظَمُ گا۔اور وہ (اسے ذبح کرنے ) کی طاقت نہیں رکھے النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ [7377] گا۔فرمایا پھر وہ اس کے ہاتھ اور پاؤں پکڑ کر اسے پھینک دے گا۔لوگ گمان کریں گے کہ اس نے اسے آگ میں پھینک دیا ہے حالانکہ وہ تو جنت میں ڈالا گیا۔پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ رب العالمین کے نزدیک لوگوں میں سے شہادت کے اعتبار سے سب سے بڑا ہے۔[22]22 : بَاب فِي الدَّجَّالِ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ دجال کے بارہ میں بیان اور یہ کہ وہ اللہ عز وجل کے نزدیک بالکل بے حیثیت ہے 5217{114) حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ :5217 حضرت مغیرہ بن شعبہ بیان کرتے ہیں کہ کسی الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدِ الرُّوَاسِيُّ نے نبی ع سے دجال کے بارہ میں اتنا نہیں پوچھا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْن أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي جس کثرت سے میں نے اس کے بارہ میں پوچھا حَازِمٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ مَا سَأَلَ آپ نے فرمایا تجھے کیا چیز اس کے بارہ میں پریشان أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ کرتی ہے؟ وہ تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔وہ الدَّجَالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُ قَالَ وَمَا يُنْصِبُكَ کہتے ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ ! لوگ کہتے ہیں کہ مِنْهُ إِنَّهُ لَا يَضُرُّكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اس کے ساتھ کھانا اور نہریں ہوں گی۔آپ نے فرمایا 5217 اطراف مسلم كتاب الفتن واشراط الساعة باب في الدجال وهو أهون على الله عزّ وجل 5218 تخریج: بخاری کتاب الفتن باب ذكر الدجال 7122 ابن ماجه كتاب الفتن باب فتنة الدجال وخروج عيسى ابن مريم۔۔۔4073