صحیح مسلم (جلد پانز دہم)

Page 116 of 279

صحیح مسلم (جلد پانز دہم) — Page 116

صحیح مسلم جلد پانزدهم 116 كتاب الفتن واشراط الساعة حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعِ قَالَ كَانَ نَافِعٌ وہ کہتے ہیں ایک بار ملا تو میں نے لوگوں میں سے ایک يَقُولُ ابْنُ صَيَّادٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ لَقِيتُهُ سے کہا تم لوگ یہ کیا باتیں کرتے ہو کہ وہ وہی (دجال) ہے۔انہوں نے کہا نہیں اللہ کی قسم۔وہ مَرَّتَيْنِ قَالَ فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ لِبَعْضِهِمْ هَلْ کہتے ہیں میں نے کہا اللہ کی قسم ! تم نے مجھ سے تَحَدَّثُونَ أَنَّهُ هُوَ قَالَ لَا وَاللَّهِ قَالَ قُلْتُ جھوٹ بولا ہے۔اللہ کی قسم !تم میں سے بعض نے كَذَبْتَنِي وَاللَّهِ لَقَدْ أَخْبَرَنِي بَعْضُكُمْ أَنَّهُ لَنْ مجھے بتایا تھا کہ وہ نہیں مرے گا یہانتک کہ وہ مال اور يَمُوتَ حَتَّى يَكُونَ أَكْثَرَكُمْ مَالًا وَوَلَدًا اولاد میں تم سے بڑھ جائے اور وہ ویسا ہی ہے جیسا کہ انہوں نے گمان کیا۔وہ کہتے ہیں پھر ہم آپس میں فَكَذَلِكَ هُوَ زَعَمُوا الْيَوْمَ قَالَ فَتَحَدَّثْنَا ثُمَّ باتیں کرنے لگے۔پھر میں نے اسے چھوڑ دیا۔وہ فَارَقْتُهُ قَالَ فَلَقِيتُهُ لَقْيَةٌ أُخْرَى وَقَدْ نَفَرَتْ کہتے ہیں پھر میں دوسری دفعہ اس ( ابن صیاد ) سے ملا عَيْنَهُ قَالَ فَقُلْتُ مَتَى فَعَلَتْ عَيْنُكَ مَا أَرَى تو اس کی آنکھ پھولی ہوئی تھی۔وہ کہتے ہیں میں نے قَالَ لَا أَدْرِي قَالَ قُلْتُ لَا تَدْرِي وَهِيَ فِي اس سے کہا تمہاری آنکھ کو یہ کب ہوا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں؟ اس نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ۔وہ کہتے ہیں میں رَأْسِكَ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ خَلَقَهَا فِي عَصَاكَ نے کہا کہ تمہیں نہیں پتہ حالانکہ وہ تمہارے سر میں هَذهِ قَالَ فَنَخَرَ كَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارِ سَمِعْتُ ہے۔اس نے کہا اگر اللہ چاہے تو تیرے اس سونٹے قَالَ فَزَعَمَ بَعْضُ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بَعَصا میں ( آنکھ ) پیدا کر دے۔وہ کہتے ہیں پھر اس نے كَانَتْ مَعِيَ حَتَّى تَكَسَّرَتْ وَأَمَّا أَنَا فَوَ اللَّه گدھے کی طرح کی اونچی آواز نکالی جو میں نے سنی۔وہ کہتے ہیں میرے بعض ساتھی سمجھے کہ میں نے اسے اس سونٹے سے مارا ہے جو میرے پاس تھا یہانتک کہ الْمُؤْمِنِينَ فَحَدَّثَهَا فَقَالَتْ مَا تُرِيدُ إِلَيْهِ أَلَمْ وہ ٹوٹ گیا اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو اللہ کی تَعْلَمْ أَنَّهُ قَدْ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَا يَبْعَثُهُ عَلَى النَّاسِ قسم ! مجھے پتہ نہ چلا۔وہ کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین مَا شَعَرْتُ قَالَ وَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى أُمِّ غَضَبْ يَغْضَبُهُ [7360] (حضرت حفصہ) کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو انہوں نے فرمایا تم اس سے کیا چاہتے ہو؟ کیا تمہیں